.

کیا "ڈیل آف دی سنچری" جمود کا شکار ہونے کے قریب ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک فلسطینی عہدے دار نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر انکشاف کیا ہے کہ فرانسیسی سفارت کار امریکی انتظامیہ کی درخواست پر مصالحت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کا مقصد فلسطینی قیادت کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ امریکی امن منصوبے کو ایک موقع فراہم کرے اور اس منصوبے کو اس حوالے کیے جانے اور اس کی تفصیلات جانے بغیر مسترد نہ کرے۔

فرانسیسی صدر کے مشیر اور لیان لوشوفالے نے کچھ عرصہ قبل رام اللہ میں پی ایل او کے سکریٹری صائب عریقات اور فلسطیینی انٹلی جنس کے سربراہ ماجد فرج سے ملاقاتیں کی تھیں۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت شمار کیے جانے کے بعد مذکورہ امید کے سوا فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تمام تر تعلقات موقوف ہو چکے ہیں۔

وہائٹ ہاؤس نے اس امر کی تردید کی ہے کہ صائب عریقات کی جانب سے فلسطینی مرکزی کونسل کو پیش کی جانے والی دستاویز درحقیقت "ڈیل آف دی سنچری" کی شقوں پر مشتمل تھی۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ابھی مکمل نہیں ہے اور کسی بھی فریق کو پیش نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم جمعرات کے روز ڈیووس اقتصادی فورم کے ضمن میں امریکی صدر سے ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں وہ جرمنی چانسلر ، فرانسیسی صدر ، برطانوی وزیراعظم اور دیگر سربراہان سے بھی ملیں گے۔

ادھر امریکی نائب صدر مائیک پینس کے اسرائیل کے دورے کے نتیجے میں نیتنیاہو نے دو کامیابیوں کو یقینی بنایا۔ ان میں پہلی چیز امریکا کا آئندہ سال کے اختتام سے قبل اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان ہے۔ دوسری چیز ٹرمپ کی جانب سے اس بات کا عزم ہے کہ اگر آئندہ چار ماہ کے دوران ایرانی جوہری معاہدے میں ترمیم نہیں کی گئی تو وہ معاہدے سے نکل جائیں گے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نیتنیاہو امریکی امن منصوبے کے پیش کیے جانے کے منتظر نظر آ رہے ہیں اس لیے کہ بیت المقدس کا معاملہ اسرائیل کے حق میں انجام تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ امر جارج بش جونیر سے لے کر اوباما کے زمانے تک کے تمام تر امن منصوبوں کی جگہ حاصل کر لے گا۔ ان تمام باتوں سے اہم یہ ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے اس کو مسترد کر دیا جائے گا اور اس طرح اسرائیل میں حکمراں دائیں بازو کی سالمیت کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوگا۔

دوسری جانب فلسطینی صدر خود کو مشکل صورت حال میں دیکھ رہے ہیں۔ وہ ابھی تک یورپ کے بڑے ممالک کو 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے پر قائل نہیں کر سکے جس کا دارالخلافہ بیت المقدس ہو۔

اگرچہ فلسطینیوں نے مائیک پینس کے دورہ اسرائیل کا بائیکاٹ کیا تاہم انہوں نے مصر کے ذریعے پہنچائے گے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ٹرمپ پر لازم ہے کہ وہ مصالحت کار کا کردار واپس حاصل کرنے کے لیے بیت المقدس کے حوالے سے اپنا اعلان واپس لیں۔

ادھر انروا ایجنسی کے لیے امریکی فنڈنگ میں کمی ، فلسطینی اتھارٹی کے لیے سپورٹ روک دینے کا عندیہ اور سیاسی عمل کے مکمل طور پر ختم ہوجانے کا امکان سامنے آنے پر اسرائیلی ماہرین نے اُس سیاسی خلاء سے خبردار کیا ہے جو اسرائیل کی جانب سے سیاسی حل کے بغیر لاکھوں فلسطینیوں پر کنٹرول جاری رکھنے کی صورت میں اپنے پَر پھیلا سکتا ہے۔