.

یمنی فوج کی تعز کا محاصرہ توڑنے کے لیے پیش قدمی جاری

باغیوں کی سپلائی لائن بند کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی فوج نے آج جمعہ کے روز حوثی ملیشیا کے زیرتسلط تعز شہر کا محاصرہ توڑنے کے لیے اہم پیش قدمی کرتے ہوئے باغیوں کی سپلائی لائن بند کر دی ہے۔

تعز کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے مقرر کردہ فوج کے ترجمان کرنل عبدالباسط البحر نے بتایا کہ شہر کا محاصرہ توڑںے کے لیے تین بریگیڈ فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تعز کا محاصرہ توڑںے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ جلد ہی شہر کو باغیوں سے آزاد کر لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تعز کے مغرب، شمال اور مشرق کی سمت سے گھیراؤ کیا گیا ہے۔ بریگیڈ 22، آرٹلری بریگیڈ 35، پیادہ فورس کے بریگیڈ 17 اور فضائیہ کے بریگیڈ 170 نے عرب اتحادی فوج کی معاونت سے تعز میں باغیوں کی نقل حرکوت کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

کرنل عبدالباسط کا کہنا تھا کہ سرکاری فوج نے الضباب، شہر کے مغربی علاقوں، مشرقہ اور شمال مشرق میں الحوبان کے مقامات پر اہم پیش رفت کی ہے۔ ان مقامات پرباغیوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔

تعز کے شمالی محاذ کے قریب جبل الوعش کے ایک بڑے حصے کو باغیوں سے چھڑا لیا گیا ہے۔ جبل الوعش میں موجود ایران نواز حوثی باغیوں کی بری تعداد اجتماعی طور پر فرار ہو گئی ہے۔ تاہم حکومتی فوج اور عرب اتحادی فوج بھاگنے والے جنگجوؤں کا مسلسل پیچھا کر رہے ہیں۔

سرکاری فوج نے جبل الوعش کے علاقوں الزنوج اور شاہراہ الاربعین میں لڑائی کے دوران کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ لڑائی میں 14 حوثی جنگجو ہلاک اور دسیوں زخمی ہو گئے۔

خیال رہے کہ یمنی فوج نےسعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحادی فوج کی معاونت سے جمعرات کو تعز کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ اس شہر پر باغیوں نے تین سال قبل قبضہ کیا تھا۔ تزویراتی اعتبار سے یہ یمن کا اہم شہر ہے۔