.

امریکی طیارے نے عراقی فورسز پر بم گرا دیا ، 8 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک لڑاکا طیارے نے غلطی سے عراقی فورسز کو حملے میں نشانہ بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں زیادہ تر عراقی فورسز کے اہلکار ہیں۔

ایک عراقی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ وادیِ فرات میں واقع مغربی قصبے البغدادی میں امریکی طیارے نے گاڑیوں کے قافلے پر فضائی حملہ کیا ہے جس سے ایک سینیر انٹیلی جنس افسر ، پانچ پولیس اہلکاروں اور ایک خاتون سمیت آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

اس عہدہ دار کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ فضائی حملہ غلطی سے کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ دارالحکومت بغداد سے 250 کلومیٹر مغرب میں عین الاسد ائیربیس کے نزدیک واقع ہے۔ان عراقی سکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

فضائی حملے میں قافلے میں شامل بیشتر گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔زخمیوں میں البغدادی قصبے کے پولیس سربراہ بھی شامل ہیں اور صوبائی حکام کے مطابق ان کی حالت تشویش ناک ہے۔

عراق کی مشترکہ آپریشنز کمان کا کہنا ہے کہ اس نے ایک دہشت گرد کمانڈر کریم السمرمد کی قصبے میں ایک اجلاس میں شرکت کی اطلاع کے بعد خصوصی فورسز کو چھاپا مار کارروائی کا حکم دیا تھا اور داعش مخالف اتحاد سے فضائی حملے کی بھی درخواست کی تھی۔

اس نے مزید کہا کہ ’’ دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور جب فوجی تلاشی کی کارروائی کررہے تھے تو ان کی جانب ایک متصل عمارت سے دستی بم پھینکا گیا تھا۔اس کارروائی کی تکمیل کے بعد عراقی فورسز اور الحشد الشعبی کے جنگجو فوجی اڈے کی جانب لوٹ رہے تھے۔ عراقی فورسز نے غلطی سے انھیں داعش کے جنگجو سمجھ لیا اور ان کے خلاف فضائی مدد طلب کی تھی ۔عراقی کمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔