.

جامعہ الازھر کی تیونس کو مسلمان ممالک کی فہرست سے نکالنے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی دینی درس گاہ جامعہ الازھر نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جامعہ نے غیراسلامی قانون سازی پر تیونس کو اسلامی ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ میڈیا میں تیونس سے متعلق آنے والی تمام اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

خیال رہے کہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ خبر چلی تھی کہ جامعہ الازھر نے تیونس میں منظور کیے گئے بعض غیر اسلامی قوانین بالخصوص شادی میں مہر کے خاتمے اور وراثت میں مردو زن میں مساوات کے قوانین کے بعد تیونس کو اسلامی ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔

جامعہ الازھر نے وضاحت کی ہے کہ اس کی جانب سے برادر ملک تیونس کے حوالے سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تیونس میں ہونےوالی قانون سازی پر اعتراض ہوسکتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے غیرمسلم ملک قرار دیا جائے۔