.

ایران کی تباہ کن پالیسیوں کا عزم کے ساتھ مقابلہ کیا جانا چاہیّے : جانسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اُن کا سعودی عرب کا دورہ عظیم اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ساتھ اپنی بات چیت کو "شان دار" قرار دیا۔ جانسن نے باور کرایا کہ برطانیہ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں جن کی عمر سو برس سے زیادہ ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔

بورس جانسن کے مطابق وہ امید کرتے ہیں کہ سعودی ولی عہد عنقریب برطانیہ کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز اور سابق برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کے زمانے میں رکھی گئی۔

جانسن نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے ایران کی جانب سے یمن میں حوثی ملیشیا کی عسکری سپورٹ کے نتیجے میں جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ "حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سمت داغے جانے والے میزائل ایران سے آتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں باقی دنیا اور برطانوی معاشرے کے سامنے دو ٹوک انداز میں بات رکھنا چاہّیے"۔

خطّے میں ایران کے کردار کے حوالے سے جانسن نے کہا کہ "تہران خطّے کے ممالک کے حوالے سے اچھی نیت نہیں رکھتا ہے"۔ جانسن کے مطابق انہوں نے تہران کو بھیجے گئے پیغام میں باور کرایا ہے کہ ریاض کو نشانہ بنانے کے لیے حوثیوں کو میزائلوں کی سپورٹ سے متعلق ایران کی پالیسی تباہ کن ہے اور سعودی عرب کے امن کے لیے خطرہ پیدا کرنا ناقابل قبول ہے۔