.

عوامی احتجاج کا سبب خامنہ ای کا ذمّے داری قبول نہ کرنا ہے : مہدی کرّوبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر اور حزب اختلاف کی سبز تحریک کے ایک رہ نما مہدی کروبی نے ایرانی نظام کے سپریم رہ نما علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے خامنہ ای پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ کروبی نے کہا کہ حالیہ عوامی احتجاجی مظاہروں کا سبب گزشتہ تیس برسوں سے ملک میں جاری ظلم اور بدعنوانی اور خامنہ ای کا بطور مرشد اپنی ذمے داری قبول نہ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ کروبی گزشتہ سات برسوں سے جبری طور پر نظر بند ہیں۔

ایرانی ویب سائٹ " سحام نيوز" پر جاری اس خط میں انقلابِ ایران کے رکن کروبی نے خامنہ ای سے مطالبہ کیا کہ وہ اپوزیشن کا کردار مٹانے اور دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے عوام کے سامنے جواب دہ بنیں۔

کروبی کے مطابق "ظلم، بدعنوانی اور امتیازی برتاؤ کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں ہونے الا حالیہ عوامی احتجاج خطرے کی گھنٹی ہے۔ لہذا آپ کو چاہیّے کہ اسے جلد سمجھ کر عوام کی معاشی مشکلات کو دیکھیں"۔

سبز تحریک کے سربراہ کے نزدیک پاسداران انقلاب کی جانب سے سیاسی ، اقتصادی ، سکیورٹی وار ثقافتی امور میں مداخلت "المیے" کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پاسداران کے ادارے اب بعض شخصیات کے لیے اقتصادی منصوبوں اور عقبی باغیچوں میں بدل چکے ہیں جن پر کوئی نگرانی نہیں۔ لہذا 50% سے زیادہ ملکی دولت کئی حکم راں اداروں کے ہاتھ میں ہے"۔

کروبی نے خط میں اُس انتباہ کا بھی ذکر کیا جو ایرانی نظام کے پہلے مرشد خمینی کی جانب سے انقلاب کے بعد ابتدائی سالوں میں سامنے آیا تھا۔ خمینی نے کہا تھا کہ "تم لوگوں کو چاہیّے کہ اس دن سے ڈرو جب لوگ تمہارے اندر کے ارادوں کو سمجھ لیں گے۔ جب یہ وقت آیا تو وہ ہم سب کا ختامہ ہو گا۔ عوام خود نہیں بدلی مگر ہم ہیں جن کو اقتدار نے بدل ڈالا اور ہم بھول گئے کہ کہاں تھے اور کہاں ہو گئے ہیں"۔

کروبی نے خامنہ ای کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کی سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی حالت سپریم رہ نما کی اسٹریٹجک اور ایگزیکٹو پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے"۔

کروبی نے خامنہ ای پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو صدارتی انتخابات میں اپنے مقرب امیدواروں کے حق میں مداخلت کی ذمّے داری سونپی تھی۔ کروبی نے شوری نگہبان اور اس کے سربراہ احمد جنتی پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے قانون سے تجاوز کرتے ہوئے ہر اس امیدوار کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جس نے مرشد اعلی اور پاسداران سے مقرّب بلاک کے ایجنڈے سے عدم اتفاق کیا۔

کروبی کے مطابق مذہبی تربیتی مراکز "الحوزات" حکام کے مال سے آلودہ ہیں، اس کے علاوہ مقدس ناموں کے حامل مذہبی مراکز ملک کے عام بجٹ سے خطیر رقوم حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ "ایرانی نظام ان دنوں سقوط کی ڈھلوان میں ہے جہاں اسے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے"۔

مہدی کروبی نے ایرانی مرشد اعلی سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید آفتوں کے جنم لینے سے قبل احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کریں۔