.

غزہ میں تین ہفتے سے شدید زخمی حماس کےسینیر رہ نما خالق ِحقیقی سے جاملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں حماس کے ایک سینیر رہ نما تین ہفتے تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جاملے ہیں۔وہ 9 جنوری کو غزہ میں سر میں اچانک گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئے تھے اور تب سے اسپتال میں زیر ِعلاج تھے۔

عماد العلمی غزہ میں اپنے گھر میں ذاتی ہتھیاروں کا معائنہ کررہے تھے ۔اس دوران میں اچانک ان سےگولی چل گئی اور ان کے سر میں لگ گئی تھی۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ تین ہفتے تک بے ہوشی کی حالت میں رہے تھے اور جانبر نہیں ہوسکے۔

باسٹھ سالہ عماد العلمی حماس کے پولٹ بیورو (سیاسی شعبے) کے سابق رکن تھے۔ وہ اس فلسطینی جماعت میں مختلف عہدوں پر فائز رہے تھے۔وہ ایک عرصے تک حماس کے دوسرے رہ نماؤں کے ساتھ شام میں مقیم رہے تھے اور 2012ء میں وہاں سے غزہ واپس آگئے تھے۔

وہ اگرچہ موجودہ پولٹ بیورو کے رکن نہیں تھے لیکن انھیں جماعت کی پالیسی سازی میں اہم مقام حاصل تھا۔ وہ 2014ء میں اسرائیل کی حماس کے خلاف غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران میں زخمی ہوگئے تھے اور ان کی ایک ٹانگ بھی ضائع ہوگئی تھی۔اس جنگ کے بعد وہ علاج کے لیے ترکی گئے تھے۔