.

گولان میں نئی باڑ.. اسرائیل کو داعش کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن ، شام اور اسرائیل کی سرحدوں کے سنگم کے تکون پر واقع گولان کا پہاڑی علاقہ 1967 سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ گولان کے جنوب میں اردن کی سرحد کے نزدیک ایک "اسمارٹ وال" (باڑ) بنانے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اردن کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے تعمیر کی جانے والی یہ باڑ الکٹرونک ٹکنالوجی اور جدید ترین سکیورٹی کیمروں سے لیس ہو گی۔ واضح رہے کہ مذکورہ علاقے میں دو باڑیں پہلے ہی موجود ہیں جن میں ایک اسرائیلی اور ایک اردنی ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس نئی باڑ کی تعمیر کا سبب اس بات کا اندیشہ ہے کہ مقبوضہ گولان کے جنوب میں سرحد کے مقابل علاقے میں داعش تنظیم مضبوط حد تک موجود ہے۔

یاد رہے کہ مذکورہ علاقے میں داعش تنظیم کا وجود کئی برس پرانا ہے۔ اسرائیل کو اندیشہ ہے کہ شام کی جانب سے عسکری کارروائیوں کے دباؤ میں داعش کے جنگجو اسرائیل کی فوج یا قریبی یہودی بستیوں کو نشانہ بنائیں گے تا کہ اسرائیل کو لڑائی میں دھکیلا جا سکے !

معلوم رہے کہ شام کے ساتھ اسرائیل کی سرحد 92 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔

جنوبی شام میں سیف زون کے معاہدے پر اسرائیل اپنی ناراضگی چھپا نہیں سکا۔ اس سے قبل وہ روس کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہا تھا کہ ماسکو مقبوضہ گولان میں 40 کلومیٹر تک شامی فوج یا حزب اللہ کے کسی بھی وجود کو روکے۔

اسرائیل کی جانب سے ایران پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ شام کے زیر کنٹرول گولان میں لڑائی کا ایک محاذ سرگرم کرنے اور وہاں حزب اللہ کو تعینات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چند روز قبل جنوبی لبنان میں تعینات یونیفل کی فوج نے اسرائیل میں امریکی اور برطانوی سفیروں کو اپنی تشویش کا پیغام پہنچایا کہ حزب اللہ تنظیم اسرائیل کی طرف سے اُن علاقوں باڑ کی تعمیر پر شدید احتجاج کر رہی ہے جہاں لبنانی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

ادھر اسرائیل نے جواب میں کہا ہے کہ تعمیراتی کام اقوام متحدہ کی جانب سے کھینچی گئی "نیلی لائن" پر ہو گا اور یہ تعمیر ہر گز نہیں روکی جائے گی۔ اسرائیل نے حزب اللہ کو خبردار بھی کیا کہ باڑ کی تعمیر کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور عسکری جواب دیا جائے گا۔

اسرائیل کو توقع تھی کہ تعمیراتی کام زمینی طور پر کشیدگی اور تناؤ کا باعث بنے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کئی ماہ قبل انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل نے سکیورٹی طور پر دو حساس علاقوں المطلہ اور الناقورہ میں 30 کلومیٹر طویل ایک اسمارٹ سکیورٹی باڑ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ یہ پیش رفت آئندہ جنگ کی تیاری کے سلسلے میں ہے۔ اس لیے کہ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ حزب اللہ کے زیر انتظام خصوصی یونٹس "الرضوان کولٹس" آئندہ جنگ میں سرحد کے نزدیک یہودی بستیوں یا عسکری بیرکوں میں دراندازی اور قبضہ کرنے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

حالیہ طور پر اسرائیل نے اپنی توجہ ایران کی جانب سے لبنان اور شام میں درست نشانے والے میزائل کی فیکٹریاں قائم کرنے کی کوشش پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اس کا مقصد حزب اللہ اور شامی فوج کے اسلحے خانے کو جدید بنانا ہے جس میں 2 لاکھ میزائل شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایسا ہونے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ اس کا مطلب ہوا کہ شام اور لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنانے کے واسطے نئے فضائی حملے کیے جائیں گے۔

مبصرین کے نزدیک اسرائیل کا اس تزویراتی پیش رفت کو روکنا شمال میں کسی بھی نئی جنگ کی الٹی گنتی کا وقت قریب لا سکتا ہے جس میں لبنان اور شام دونوں شامل ہوں گے۔ اگرچہ تمام فریق اس طرح کی جنگ بھڑکانے میں غیر متعلقہ ہیں۔ تاہم اسرائیل تزویراتی مساوات کی تبدیلی سے قبل اس کے وقوع کو ترجیح دے سکتا ہے۔