.

امریکی فوج کے خفیہ اڈوں کے لیے خطرہ بننے والی "ایپلی کیشن" کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اندرون اور بیرون ملک امریکی فورسز کے افراد کے سکیورٹی پروٹوکول کو بڑھانے کے لیے احتیاطی انتظامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے کہ بعض افسران اور فوجیوں کی جانب سے زیرِ استعمال جسمانی لیاقت کی پیمائش کے آلات (فٹنس ٹریکرز).. دنیا بھر میں ان کی نقل و حرکت اور تعیناتی کے حسّاس مقامات کا انکشاف کر سکتے ہیں۔

اس بحران نے اُس وقت سر اٹھایا جب ایک یونی ورسٹی طالب علم نے ٹوئیٹر پر بتایا کہ اس نے Heat Map کے ذریعے اس مسئلے کو دریافت کیا۔ کئی محققین اور صحافیوں نے مذکورہ طالب علم کی ٹوئیٹ کو دیکھ لیا۔ اس کے بعد 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں یہ معاملہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور پھرخبردار کیا گیا کہ کوئی بھی شخص GPS اور فٹنس ٹریکرز کے ذریعے خفیہ عسکری اڈوں اور فوج کے گشت کے راستوں کا پتہ چلا سکتا ہے۔ اس کی وجہ اسٹراوا کمپنی کی جانب سے تیار کی گئی ایپلی کیشن "social network for athletes" ہے جس میں صارفین کے متعلق تمام تر عمومی معلومات جمع ہوتی ہیں۔ ان صارفین میں فوجی اہل کار اور مختلف انٹلیجنس ایجنسیوں کے افراد بھی شامل ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹراوا کمپنی کے صارفین کے ناموں اور ذاتی معلومات کا بآسانی انکشاف ہو سکتا ہے۔

البتہ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کوئی بھی ممکنہ مخاصم امریکی عسکری قیادت اور فوج کے اہل کاروں کا طرز زندگی بھی معلوم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فوج اور انٹیلجنس کے اہل کاروں کے مشاغل کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی بھی علاقے میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں یا پھر وطن واپس لوٹ رہے ہوں۔

واضح رہے کہ Heat Maps پر نمودار ہونے والے ڈیجیٹل پرنٹ ان افراد کے قدموں کے نشانوں کا حقیقی اور فوری عکس ہوتا ہے۔ یہ امر حکومتوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے اس لیے کہ انٹرنیٹ سے مربوط رہنے کی صورت میں کوئی بھی شخص اپنی زندگی کے اسرار کو خفیہ نہیں رکھ سکتا۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں انٹرنیشنل سکیورٹی کے طالب علم نیتھن روزر نے ٹوئیٹر پر بعض تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے اسٹراوا نیٹ ورک کے ایک صارف کے بارے میں بتایا جو ممکنہ طور پر افغانستان میں امریکی عسکری آپریشن انجام دینے والے فوجی اڈوں سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ شام میں ترکی کے فوجی دستوں اور شام میں روسی کارروائیوں کے علاقے میں ممکنہ طور پر پہرے کے دستے شامل ہیں۔

اسٹراوا نیٹ ورک کی جانب سے جاری گلوبل ہِیٹ میپ میں صارفین کی جانب سےGPS کے 130 کھرب پوائنٹس شامل ہیں۔ یہ نقشہ انتہائی حیران کر دینے والا ہے۔

اضح رہے کہ امریکا وہ واحد ملک نہیں جس کو ان سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے البتہ اس حوالے سے اسے سب سے بڑے خطرہ درپیش ہو سکتا ہے۔ سال 2015 میں چین کی فوج کی جانب سے جاری انتباہ میں فوجی اہل کاروں کو خبردار کیا گیا تھا کہ "اسمارٹ واچ" (گھڑیاں) ، کلائی پر باندھنے والے فٹنس ٹریکرز اور اسمارٹ گلاسز (چشمے) سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

امریکی مرکزی کمان کے اقدامات

واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مطابق امریکی فوج کی مرکزی کمان نے عملی طور پر اپنی "پرائیویسی" کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس امر کا غالب گمان ہے کہ امریکی فوج کے لیے یہ احکامات جاری کیے جائیں گے کہ وہ ذاتی اسمارٹ فون اور جسم پر پہنے جانے والے فٹنس ٹریکرز کا استعمال ترک کر دے۔ یہ اس سکیورٹی پروٹوکول کی طرز پر ہو گا جس کا اطلاق پینٹاگون اور حساس عسکری تنصیبات پر کیا جا رہا ہے۔

البتہ اسٹریٹجک تجزیہ کار لینٹ نوسبیچر کا کہنا ہے کہ "اندرون یا بیرون ملک اپنے اہل خانہ سے دُور تیسری یا چوتھی بار تعینات کیے جانے والے فوجیوں کو اگر نارمل زندگی گزارنے کے لیے ٹکنالوجی کے استعمال کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں گے"۔ نوسبیچر کے مطابق اسٹراوا کے نقشوں میں اِفشا معلومات کے نتیجے میں یقینا بعض عسکری اور انٹیلجنس سروسز کو اپنے سکیورٹی اقدامات بہتر بنانا ہوں گے۔ تاہم ساتھ ہی فورسز اور دیگر تنظیموں کی جانب سے اپنے اہل کاروں کو تربیت بھی فراہم کرنا ہو گی تا کہ GPS کی صورت میں درپیش خطرے کے حقیقی ادراک کو یقینی بنایا جا سکے۔

بہت سے تجزیہ کاروں نے اسٹراوا کمپنی کو چھوڑ کر تمام تر ذمّے داری اور ملامت کا ملبہ امریکی فوج اور دیگر تنظیموں پر ڈال دیا ہے۔ اس لیے کہ کمپنی نے صارفین کو آزادی دی ہے کہ وہ اپنی معلومات کو شیئر کریں یا پھر اس کو خفیہ رکھیں۔ نوسبیچر کے مطابق اسٹرواوا کمپنی ایک سروس فراہم کر رہی ہے اور اس کو ملامت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ البتہ فوجیوں کو بہتر تربیت اور زیادہ سخت ہدایات کی ضرورت ہے تا کہ وہ اور ان کے ساتھ اس ممکنہ سکیورٹی خطرے میں نہ پڑ جائیں۔

دوسری جانب نیو امیرکا سکیورٹی سینٹر میں ٹکنالوجی اور قومی سلامتی پروگرام کے ڈائریکٹر پال شیرر کا کہنا ہے کہ ٹکنالوجی کمپنیاں اس معاملے میں ایک حد تک ذمّے دار ہیں۔ ان کے مطابق اگر اسٹراوا کمپنی ان معلومات کے عمومی پھیلاؤ کے منفی نتائج سے گریز کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیّے کہ وہ عارضی طور پر ایپلی کیشن کے نقشوں کو بلاک کر دے اور حکومت کے ساتھ مل کر حساس معلومات حذف کرنے پر کام کرے۔ شیرر کا کہنا ہے کہ یہ بات قابل قبول نہیں کہ اسٹراوا کمپنی کو ایسی معلومات گردش میں لانے کی اجازت دی جائے جو امریکی فورسز کے اہل کاروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔