.

انڈونیشیا:آچےصوبے کا مسلمان فضائی میزبانوں کو حجاب کی پابندی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کے بندے آچے کی صوبائی حکومت نے مُلک کی تمام فضائی کمپنیوں کو احکامات دیے ہیں کہ وہ ہوائی جہازوں میں میزبانی [ہوسٹس] کی خدمات انجام دینے والی خواتین کو حجاب کا پابند بنائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جزیرہ سماٹرا کے شمال میں واقع بندے آچے صوبہ داخلی طورپر خود مختار ہے۔ تاہم یہ اس کا اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے آچے میں اسلامی شرعی قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں اورصوبے میں خواتین کے حجاب اختیار کرنے کو لازمی قرار دیاگیا ہے۔ غیرمسلم خواتین کے لیے بھی لباس کا نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں پبلک مقامات پر بازو اور پنڈیاں ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ البتہ ان کے سر ڈھانپنے پر پابندی نہیں۔ وہ بال کھلے رکھ سکتی ہیں۔

ایک مقامی عہدیدار ماوردی علی کا کہنا ہے کہ بعض ایئر ہوسٹسز کی جانب سے حجاب کی پابندی نہ کیے جانے کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے انہیں نئے احکامات دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ آچے میں فضائی سروسز فراہم کرنے والی نجی فضائی کمپنیاں حجاب سے متعلق نئے قانون کی پابندی کرائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں مزید تادیبی اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں اور حجاب کی پابندی نہ کرنےوالی مسلمان فضائی میزبانون کو کام سے روکا بھی جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ آچے صوبہ نے سنہ 2001ء میں خود مختاری حاصل کی تھی۔ اس صوبے نے طویل عرصے تک علاحدگی کے لیے تحریک جاری رکھی۔ یہ صوبہ انڈونیشیا کے دیگر تمام صوبوں سے مختلف ہے اور یہاں پرمقامی حکومت اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ میں دلچسپی رکھتی ہے۔