.

روسی سکیورٹی وفد اسرائیل میں ، لبنان میں ایران کی میزائل فیکٹریوں پر نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کا ایک اعلی سطح کا سکیورٹی وفد بدھ کے روز اسرائیلی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی وزیراعظم نے ماسکو میں روسی صدر کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں شام میں ایرانی عسکری وجود اور ایران کی جانب سے لبنان میں درست نشانے کے حامل میزائل تیار کرنے والی فیکٹریاں قائم کرنے جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔

روسی وفد کی سربراہی روس کی قومی سلامتی کے مشیر نکولائی بیٹرشوف کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ وفد میں نائب وزیر خارجہ میخائیل بوغدانوف سمیت کئی نائب وزراء ، فوجی جنرل اور انٹیلجنس افسران شمال ہیں۔ ادھر اسرائیلی ٹیم کی سربراہی قومی سلامتی کے مشیر مائر بن شبات کر رہے ہیں۔

یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل کے لیے قابل ترجیح امر یہ ہے کہ وہ لبنان میں ایرانی فیکٹریوں کے انکشاف کے لیے سفارتی مہم جوئی شروع کرے۔ اس کے علاوہ روس پر زور دیا جائے کہ وہ ایران کو لبنان سے نکلنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈالے۔ بنیامین نیتنیاہو پہلے ہی دوٹوک الفاظ میں دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر عالمی برادری ایران کو شام میں پنجے گاڑنے اور اسرائیل کے خلاف درست نشانے کے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے لبنان میں فیکٹریاں قائم کرنے سے نہ روک سکی تو تل ابیب ان دونوں قسم کی پیش رفت کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکری طور پر خود حرکت میں آئے گا۔

خود نیتنیاہو کے دعوے کے مطابق بھی یہ فیکٹریاں ابھی زیر تعمیر ہیں۔

اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق ایران کو شام میں مذکورہ فیکٹریاں قائم کرنے میں مشکل کا سامنا ہے کیوں کہ شام کی اراضی اسرائیلی حملوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ روس اور شامی حکومت خود بھی شام کی اراضی پر ان فیکٹریوں کے قیام پر تحفظات رکھتی ہے۔ البتہ لبنان میں صورت حال مختلف ہے۔ ایران کے نزدیک اسرائیل کسی بھی جامع جنگ کو بھڑکنے سے روکنے کے لیے لبنان کے اندر آ کر حملے کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ جیسا کہ 2006 میں چھوٹا سا واقعہ حزب اللہ کے ساتھ بھرپور جنگ کا سبب بن گیا تھا۔ علاوہ ازیں تہران میزائل تیار کرنے کی فیکٹریاں قائم کرنے کے لیے لبنان کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسرائیلی ذرائع اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ لبنان میں فیکٹریوں کو صرف اسی صورت نشانہ بنایا جائے گا جب کہ دیگر تمام آپشنز میں ناکامی ہو جائے۔

ادھر قابض اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ایزنکوت نے حزب اللہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایزنکوت کے مطابق "اس دہشت گرد ملیشیا کے جنگجو لبنان کے جنوب میں موجود ہیں جہاں حزب اللہ لڑائی کے لیے اپنے اسلحے اور صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج دن و رات اپنی استعداد برقرار رکھنے کے واسطے کام کر رہی ہے اور وہ تمام خطرات کا مقابلہ کرے گی"۔

اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ "حزب اللہ نے شام سے اپنی فورسز کا بڑا حصّہ واپس بلا لیا ہے اور وہ جنوبی لبنان میں 240 دیہات میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ حزب اللہ کو ممکنہ طور پر ایسے جدید ترین اسلحے اور ریڈار نظام فراہم کر دیے گئے ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ اسرائیلی فضائیہ اس مفروضے کے ساتھ تصرف کر رہی ہے کہ حزب اللہ ایسی قدرت رکھتی ہے کہ فضاؤں میں اسرائیل کے مطلق کنٹرول کو نقصان پہنچائے۔ حزب اللہ مشقوں میں اسی چیز کی تربیت حاصل کر رہی ہے"۔