.

فلسطینیوں نے امریکی وزارت خارجہ کا وفد بیت لحم سے مار بھگایا

ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس اور انتقامی پالیسیوں پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان اور فلسطینیوں کی امداد بند کرنے کے اقدامات کےبعد فلسطینی عوام میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ اس کا اظہار ویسے تو آئے روز فلسطینیوں کے احتجاج سے ہوتا ہے مگر کل منگل کو امریکی وزارت خارجہ کے ایک وفد کو غرب اردن کے شہر بیت لحم میں خوب بے عزت کرکے وہاں سے نکال دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے عہدیداروں کا ایک وفد تاریخی شہر بیت لحم کے دورے پر آیا تو ایوان صنعت وتجارت کے ارکان اور دیگر سماجی کارکنوں نے طاقت کے ذریعے امریکی وفد کو شہر سے باہر بھگا دیا۔ مظاہرین سخت مشتعل تھے اور انہوں نے امریکیوں کے خلاف شدید نعر ے بازی کی اور ان کی گندے اندوں کے ساتھ تواضع کی گئی۔ فلسطینیوں کا غم وغصہ دیکھنے کے بعد امریکی وفد نے بیت لحم سے بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی۔

فلسطینی خبر رساں اداروں کے مطابق بیت لحم گورنری کے ایوان صنعت وتجارت کےچیئرمین سمیر حزبون نے کہا کہ امریکی وفد شہر میں ڈی جیٹل تجارت سے متعلق ایک کورس میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ ان میں ایک امریکی پروفیسر اور القدس میں امریکی قونصل خانے کے اہلکار بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ اچانک ہم نے دیکھا کہ مظاہرین کا ایک ھجمو سخت غم وغصے میں دفتر میں آدھمکا۔ اس وقت کورس جاری تھا۔ مظاہرین کورس میں امریکیوں کی موجودگی پر سخت احتجاج کیا جس کے بعد ہمیں کورس وہیں ختم کرنا پڑا۔ امریکی وفد قونصل خانے کے اہلکاروں سے سمیت وہاں سے باہر نکلا تو ان پر گندے انڈے بھی پھینکے گئے۔

اس واقعے کی ایک فوٹیج بھی سوشل میڈیا پروائرل ہوئی ہے جس میں مشتعل فلسطینی ھجموم کو امریکیوں کو شہر سے باہر نکالے اور ان کے خلاف شدید نعرےبازے کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’امریکی۔ صہیونی۔ فاشزمنظور‘ کے الفاظ درج تھے۔

اناطولیہ خبر رساں ادارے نے تحریک فتح کی انقلابی کونسل کے رکن محمد اللحام کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے امریکیوں کی گاڑیاں بھی روکنے کی کوشش کی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر 2017ء کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا تھا۔ بعد ازاں فلسطینیوں کے خلاف مزید انتقامی کارروائی کرتے ہوئے فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی سالانہ مالی امداد کم کردی تھی۔ ان اقدامات پر فلسطینی عوام سخت غم وغصے میں ہیں۔