.

’مالی سمجھوتے سعودی بجٹ میں سالانہ 30 ارب ریال کا اضافہ کریں گے‘

شرح نمومیں اضافے سے اصل رقم کی شرح بھی بڑے گی:تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کی جاری مہم کے ثمرات آنے والے برسوں میں بھی ظاہر ہوں گے۔ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیے گئے دولت افراد، شہزادوں اور سابق وزراء کے ساتھ طے پائے سمجھوتوں کے نتیجے میں سالانہ سعودی عرب کےبجٹ میں 25 سے 30 ارب ریال کا اضافہ ہوگا۔ یہ اضافہ سعودی عرب میں آئل سیکٹر سے ہٹ کر ریونیو میں شمار کیا جائے گا۔ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار افراد کےساتھ طے پائے معاہدوں کے تحت اب تک 4 کھرب سعودی عرب ریال کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بات سعودی عرب کی الراجحی کیپٹیل کمپنی کے ریسرچ کےشعبے کے چیئرمین مازن السدیری نے’العربیہ‘ چینل سے بات کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل نے مالی سمجھوتوں کے تحت جتنی رقم کے قومی خزانے میں واپس لانے کا اعلان کیا گیا وہ سابقہ اندازوں کے کافی قریب ہے۔ معاہدوں کو عملی شکل دینے سے قبل یہ خبریں آ رہی تھیں کہ بدعنوانی کے کیسز میں گرفتار افراد مجموعی طورپر ایک کھرب ڈالر یا تین کھرپ 75 ارب سعودی ریال قومی خزانے میں واپس آنے کے امکانات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی ماہر اقتصادیات نے کہا کہ مالی سمجھوتوں کے تحت واپس لی جانے والی بیشتر رقم لیوڈ اثاثے نہیں بلکہ وہ آئندہ برسوں کےدوران 30 ارب ریال کی سالانہ آمدن کا بھی ذریعہ ثابت ہوں گے۔ یہ اضافہ تیل سیکٹر سے ہٹ کر ہوگا جس کے نتیجے میں سعودی معیشت کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا۔

السدیری نے کہا کہ وقت گذرنے کےساتھ ان جائیدادوں اور تجارتی اداروں کی طرف سے رقوم میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا جو سعودی معشیت کی شرح نمو میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کمپنیوں کے مالکان کے ذاتی اثاثوں اور کمپنیوں کی آمدن کو الگ الگ رکھنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں کمپنیوں پر منفی اثرات مرتب نہ ہوسکیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سعودی تجزیہ نگار کا کہنا تھا موجودہ حالات مملکت کی اقتصادیات کے لیے زیادہ بااعتماد ہیں۔ سعودی عرب کے سالانہ 7 کھرب 83 ارب ریال میں سے 4 کھرب 92 ارب کی رقم تیل کے شعبے سے حاصل ہونے والی آمدن سے لی گئی جاتی ہے۔ حالانکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت حالیہ برسوں میں کم ترین سطح پر آئی تھی۔ یہ ریونیو 57 ڈالر فی بیرل کے حساب سے لگائی گئی ہے۔ توقع ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔