.

حزب اللہ کے امیدوار مالی بحران کا شکار، انتخابی مستقبل داؤ پر لگ گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں رواں سال چھ مئی کو پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں لنگوٹ کس کر انتخابی مہم شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں مگر مذہبی شدت پسند ایران نواز حزب اللہ ملیشیا کے نامزد امیدواروں کو مالی مشکلات اور بحرانوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا انتخابی میرٹ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مبصرین یہ اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر لبنانی بنکوں نے حزب اللہ کے حمایت یافتہ امیدواروں کو اپنی انتخابی مہمات کے لیے بنکوں میں خصوصی اکاؤنٹ کھولنے سے روک دیا توان امیدواروں کا انتخابی میرٹ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب حزب اللہ بعض ’حیران کن‘ ذرائع کا استعمال کرکے اپنے امیدواروں کے انتخابی معرکے میں شامل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر امریکا نے دہشت گرد حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کا شکنجہ مزید سخت کردیا تو لبنانی بنک ایسے حزب اللہ کے امیدواروں کے بنک کھاتے کیسے کھول سکیں گے۔ امریکا نے تہیہ کر رکھا ہے کہ دہشت گردوں کو مالی سپورٹ کے حصول سے ہرصورت میں رکنا ہے۔ ایسے میں لبنانی بنک حزب اللہ کے مجوزہ امیدواروں سے کیسے نمٹیں گے؟۔

امریکا نے لبنانی بنکوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے عہدیدار تواتر کے ساتھ بیروت کے دورے کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں تازہ دورہ امریکی وزیر خزانہ کے معاون مارشل بیلنگسلی کا ہے۔ وہ گذشتہ ہفتے بیروت پہنچے تھے۔

لبنان میں پارلیمانی انتخابات کی تاریخ قریب آنے کے وقت میں امریکی حکام کے دورے اس بات کا ثبوت ہین کہ امریکی حکومت حزب اللہ پر مزید اقتصادی، سیاسی اور مالیاتی پابندیاں عاید کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

لبنانی ذرائع ابلاغ اور باثوق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بنکوں کی جانب سے عدم تعاون کے باعث حزب اللہ کے امیدوار حقیقی مشکل میں پھنس چکے ہیں اور ان کی انتخابی مہم مکمل طور پر ’فلاپ‘ ہونے کا اندیشہ ہے۔

لبنان میں نئی انتخابی دستور کے مطابق آرٹیکل59 کے تحت ہر امیدوار کے لیے اپنی انتخابی مہم چلانے سے قبل لبنان کے کسی مقامی بنک میں ایک نیا اکاؤنٹ کھولنا لازمی ہے۔ اسے ’انتخابی مہم بنک کھاتہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کھاتے میں امیدوار کے بارے میں اہم معلومات، نامزدگی کے آئینی ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔ اس کےبعد بنک مذکورہ امیدوار کے نام اور اس کے دیگر کوائف کی تصدیقی اسٹیٹ منٹ جاری کرے گا۔

امریکا کی جانب سے لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں شدت پسندوں بالخصوص حزب اللہ کو دور رکھنے کے لیے دباؤ کے باوجود واشنگٹن کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ حزب اللہ اور اپنے پارلیمانی بلاک کے ذریعے حکومت پر اپنے امیدواروں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے یا بنکوں میں اکاؤنٹس کھلوانے کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے۔ ایسی صورت میں امریکی مالیاتی اتھارٹی لبنانی بنکوں پر مزید دباؤ ڈال کر انتخابات کو معطل کر سکتی ہے۔

کیا کوئی قانونی راستہ بھی ہے؟

لبنانی تجزیہ نگاروں کے مطابق لبنان میں پارلیمانی انتخابات کے لیے خصوصی بنک اکاؤنٹ کھلوانے کی شرط اگر مشکل پیدا کرے گی تو اس کا قانونی اور آئینی حل بھی موجود ہے۔

لبنان کے عالمی قانون کے ماہر ڈاکٹر انطوان صفیر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی امیدوار کی مشکوک سرگرمیوں یا دیگر وجوہ کی بناء پر کوئی بنک اس کی انتخابی مہم کا اکاؤنٹ کھولنے سے معذرت کرتا ہے تو اسی اصول پر کوئی بھی امیدوار ’ جنرل فنڈ‘ میں اپنا اکاؤنٹ کھولنے کا مجاز ہے۔ جنرل فنڈ لبنانی وزارت خزانہ کے ماتحت ایک بنک ہی کی طرح شہریوں کو رقوم کی منتقلی کی سہولت مہیا کرتا ہے۔

ڈاکٹر صفیر کا کہنا ہے کہ بنک کھاتوں ہی کا اصول جنرل فنڈ پرلاگو ہوتا ہے۔ یعنی انتخابی مہم ختم ہوتے ہی یہ اکاؤنت بند کر دیا جائے گا۔

نئی امریکی پابندیاں

امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر ڈاکٹر ولید فارس نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے حزب اللہ کے امیدواروں پر پردہ ڈالنے اور ان کی معاونت کے کسی بھی اقدام پر امریکا کی طرف سے پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔ ایسے میں لبنانی حکومت کے پاس دو آپشن ہوں گے۔ یا تو وہ فیصلے پر نظرثانی کرے یا امریکا کی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

ڈاکٹر فارس کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت لبنانی حزب اللہ پر نئی پابندیوں کے نفاذ کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ شام میں حزب اللہ کی مداخلت روکنے کے لیے منظور کردہ قرارداد1559 پرعمل درآمد کرانے کے لیے بھی امریکا کا لبنان پر دباؤ برقرار ہے۔ اس قرارداد میں حزب اللہ کی شام میں مداخلت ختم کرنے اور تنظیم کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔