.

خامنہ ای ’شاہ ایران‘ کے عبرتناک انجام کو سامنے رکھیں: حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے ایرانی رجیم کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے عوام کے دیرینہ مطالبات پر کان نہ دھرے توان کا انجام سابق بادشاہ [رضا شاہ پہلوی] کی طرح خوفناک ہوسکتا ہے۔

انقلاب ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کے دورہ [1979ء تا1989ء] کو بہترین عرصہ قرار دیا۔

انہوں نے اشارتا کہا کہ ایرانی بادشاہ نے عوام کی آواز پر لبیک کہنے کے بجائے اپنی آمرانہ پالیسی جاری رکھی جس کے نتیجے میں ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اظہار رائے کی آزادی سے کسی صورت میں نہیں روکا جا سکتا۔ عوام کو تنقید اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔

صدر روحانی نے کہاکہ ایران میں شاہی نظام کے خاتمے کا اصل محرک عوام کی آواز پر عدم توجہی تھی۔

ایرانی صدر نے یہ باتیں سپریم لیڈر کے ایران میں حالیہ عرصے میں ہونے والے احتجاج پر ان کے موقف کے جواب میں کہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو ’دشمن کی سازش‘ اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دے چکے ہیں۔

خامنہ ای بھی صدر حسن روحانی کے موقف پر تنقید کرچکے ہیں۔ حسن روحانی بار بار اپنے گھر کی فکر کرنے اور عوام کے مطالبات حل کرنے پر زور دینے کے موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں جب کہ شدت پسند مذہبی ٹولہ عوامی احتجاجی تحریک کو غیرملکی سازش قرار دیتا رہا ہے۔

خامنہ ای نے موجودہ صدر حسن روحانی اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کے بیانات کی بھی شدید مذمت کی ہے۔

حسن روحانی ملک کے بنیاد پرست حلقوں پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور ملک میں جاری احتجاجی تحریک کا ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی احتجاج پر سخت موقف اپنانے والے سپریم لیڈر کے ہاں اپنی قدر ومنزلت بڑھانے اور اپنے انتخاب کے وعدوں پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں حالیہ ہفتوں کےدوران معاشی استحصال کے خلاف ملک گیر پرتشدد مظاہرے ہوچکے ہیں۔ ایرانی پولیس، پاسداران انقلاب اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مل کرعوامی احتجاجی کی تحریک کچلنے کے لیے وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔