.

مصر: صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیلیں ، السیسی کی سنگین نتائج کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں 26 سے 28 مارچ تک ہونے والے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی آوازیں زور پکڑنے لگی ہیں جبکہ صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنی حکمرانی کو چیلنج کرنے والے کسی بھی شخص کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی ہے اور کہا ہے کہ اب سات یا آٹھ سال پہلے والا دور واپس نہیں آئے گا۔

انھوں نے ایک نشری تقریر میں خبردار کیا ہے کہ’’ سات یا آٹھ سال پہلے جو کچھ ہوا تھا ،وہ اب مصر میں دوبارہ نہیں ہوگا‘‘۔ وہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کا حوالہ دے رہے تھے جس کے نتیجے میں ان کے اقتدار کا دھڑن تختہ ہوگیا تھا اور مصر سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہوگیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ جو کام پہلے نہیں ہوا تھا، وہ اب بھی نہیں ہوگا۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ آپ لوگ مجھے جانتے نہیں ہیں‘‘۔

صدر السیسی کا کہنا تھا کہ وہ مصریوں سے سڑکوں پر آنے کا کہہ سکتے ہیں کہ وہ انھیں ’’ولنوں‘‘ کے مقابلے میں مینڈیٹ دیں۔انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’ غور سے سنیں اور جو کوئی بھی مصر کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھ سے گزر کر ہی ایسا کرسکتا ہے‘‘۔

مصر کے ڈیڑھ سو سے زیادہ سیاست دانوں نے منگل کے روز ووٹروں پر زوردیا تھا کہ وہ مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔ان میں صدر السیسی اور ایک امیدوار کے درمیان دوبدو مقابلہ ہوگا۔ باقی امیدواروں نے حکومت کی جبر واستبداد پر مبنی کارروائیوں کے بعد صدارتی انتخاب لڑنے سے توبہ کر لی ہے۔

بائیکاٹ کی اپیل کرنے والوں میں سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار حمدین صباحی اور مصر کے انسداد بدعنوانی کے ادارے کے سابق سربراہ ہشام جنانہ بھی شامل ہیں۔ہشام سابق چیف آف اسٹاف ریٹائرڈ جنرل سامی عنان کی مہم چلاتے رہے ہیں۔وہ صدر السیسی کے خلاف ایک مضبوط امیدوار ہوسکتے تھے لیکن انھیں فوج نے جعل سازی کے الزام میں 23 جنوری کو گرفتار کر لیا تھا۔ فوج نے ان پر بلااجازت صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے قانون توڑنے اور فوجی قواعد وضوابط کا الزام عاید کیا ہے۔

یادرہے کہ 2014ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں مسلح افواج کے سابق سربراہ عبدالفتاح السیسی 96.9 فی صد ووٹ لے کر ملک کے صدر منتخب ہوگئے تھے ۔ان کے حریف امیدوار حمدین صباحی کے حق میں صرف تین فی صد ووٹ پڑے تھے جبکہ باقی ووٹوں کو مسترد کردیا گیا تھا۔

عبدالفتاح السیسی کو مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے آرمی چیف کے منصب پر فائز کیا تھا لیکن انھوں نے جولائی 2013ء میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد ڈاکٹر مرسی ہی کو چلتا کیا تھا اور بعد میں ان کی جماعت الا خوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی عاید کر دی تھی۔