.

اسرائیل "لبنان کا تیل" چوری کرنے کے لیے چوکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشیل عون نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحد پر متنازعہ علاقے میں آئل اینڈ گیس زون کے حوالے سے اسرائیلی دعوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے بیروت سفارتی راستے استعمال کر رہا ہے۔

اس سے قبل اسرائیل نے گذشتہ روز لبنان کی جانب سے سمندری زون میں تیل اور گیس کی دریافت کے لیے اعلان کردہ ٹینڈر کو "انتہائی اشتعال" انگیز قرار دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کا اس میں شریک ہونا غلطی کے مترادف ہوگا۔

لبنانی وزیراعظم سعد حریری سے ملاقات کے بعد صدر میشیل عون نے اپنی ٹوئیٹ میں حریری کے حوالے سے بتایا کہ "لبنان کی تیل کی دولت کے حوالے سے ہمیں ایک بڑے دشمن کا سامنا ہے... اس سلسلے میں لبنان کھلے اور واضح اقدامات کرے گا"۔

عون کا مزید کہنا تھا کہ "اسرائیل کے ان دعوؤں اور پروپیگنڈے سے سفارتی طریقے سے نمٹنے کے واسطے لبنان متحرک ہو گیا ہے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ لبنان ہر طریقے سے اپنی اراضی کی خود مختاری اور سلامتی کے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

لبنانی ایوان صدارت کے سرکاری ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر مزید بتایا گیا ہے کہ میشیل عون لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ برے کے ساتھ اس امر پر متفق ہو گئے ہیں کہ آئندہ منگل کے روز ایک اجلاس میں مذکورہ صورت حال میں اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اقدامات زیر غور آئیں گے۔

لبنان نے ممکنہ طور پر تیل اور گیس رکھنے والے زون کو دس قطعوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ان میں قطعہ نمبر 9 لبنان اور اسرائیل کے بیچ متنازع علاقے کے مقابل واقع ہے۔ اس متنازع علاقے کا رقبہ 860 مربع کلومیٹر ہے اور یہاں دریافت کی کوئی کارروائی شامل نہیں۔