.

قطرنے مشرق وسطیٰ میں ایرانی مداخلت کے ثبوت مسترد کردیے

ایران کے حوالے سے امریکی مذمت بھی نظر انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر نے خطے میں ایران کی کھلے عام مداخلت سے متعلق سعودی عرب، امارات اور بحرین کی طرف سے فراہم کرد ناقابل تردید شواہد مسترد کردیے۔

العربیہ کے مطابق قطر کی طرف سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے بھی ایران کی خطے میں مداخلت کی روک تھام کے لیے موثر کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔

قطری وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خطے میں ایرانی مداخلت اور عدم استحکام پھیلانے میں تہران کے ملوث ہونے کے دعوے مشکوک ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا بھی اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر نے ایران کے ساتھ تعلقات اور باہمی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔

دوحہ حکومت نے صاف الفاظ میں خطے کو بدامنی سے دوچار کرنے کی مریکی سازشوں کے ٹھوس شواہد کومسترد کردیا ہے۔ قطری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دعوے ان ممالک کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے دوحہ کا سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ جاری رکھا ہوا ہے۔

قطری حکومت نے خطے میں ایرانی توسیع پسندی کی سازشوں کی مذمت کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ بات چیت کی راہ اختیار کرے۔

خیال رہے کہ حال ہی عرب ممالک کی طرف سے خطے میں ایران کی منظم مداخلت اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ٹھوس شواہد فراہم کیے گئے تھے مگر قطری حکومت نے ان شواہد کو مشکوک قرار دیا تھا۔