.

مسجد میں ’دھماکہ خیزآلہ‘ بنانے والے داعشی ملزم بارے تازہ تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں قائم ایک فوج داری عدالت نے ایک نوجوان داعشی دہشت گرد کے مقدمہ کی سماعت شروع کی ہے۔22 سالہ ملزم پر دہشت گردی کے11 جرائم کے الزامات ہیں۔ عدالت نے ملزم کو آئندہ سماعت پر اپنے دفاع کی تیاری کی مہلت دی ہے۔

داعشی سیل اور البغدادی کی بیعت

ملزم کے کیس کی پہلی سماعت جمعرات کو الریاض کی فوجی عدالت میں ہوئی۔ ملزم کے خلاف عاید کردہ الزامات میں تکفیری منہج اختیار کرنے، ریاست اور اس کے حکام کی تکفیر، ججوں اور سیکیورٹی حکام سمیت اعلیٰ حکام کے قتل پر اکسانے، داعش تنظیم کے ساتھ تعلق، داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی، خفیہ سیل تشکیل دینے اور سعودی عرب میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

مسجد میں دھماکہ خیز مواد کی تیاری

میڈیا رپورٹس کے مطابق داعشی ملزم پر مسجد میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے، بغیر اجازت آتشیں اسلحہ رکھنے، سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ پرتین ناموں سے گمراہ عناصر کے ساتھ رابطوں کے لیے اکاؤنٹ کھولنے، شام میں لڑائی کے لیے سفر پراکسانے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے ملزم کو تمام الزامات ثابت ہونے پر موت کی سزا دینے کی سفارش کی ہے۔