.

لیبیا : بچوں کا "موت کی نیند سلانے" کی اجتماعی کارروائیوں پر عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سرکاری فوج کے ایک کمانڈر محمود الورفلی کی جانب سے حالیہ عرصے میں داعش تنظیم کے ارکان کے خلاف موت کے گھاٹ اتارے جانے کی اعلانیہ اجتماعی کارروائیوں نے "خطرناک فیشن" کی صورت اختیار کر لی ہے۔ لیبیا کے شہر بنغازی میں 9 برس سے بھی کم عمر بچوں کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں اداکاری کرتے ہوئے الورفلی کی طرز پر مناظر پیش کیے گئے ہیں۔

مذکورہ وڈیو میں 6 بچوں نے داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کا کردار ادا کیا اور ایک دوسرے بچّے نے خود کو "کیپٹن ناجی خالد الزویری" کا نام دیتے ہوئے لیبیا کی فوج کے کمانڈر محمود الورفلی کی شخصیت کا نقشہ کھینچا ہے۔ ہاتھ میں کھلونا ہتھیار لیے ہوئے کمانڈر بچّے نے پہلے ان "قیدیوں" کو موت کی سزا سنائی اور اس کے بعد "فائرنگ" کر کے ان سب کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس موقع پر اداکاری کرتے ہوئے تمام بچّے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔

لیبیا میں مختلف حلقوں نے موت کے گھاٹ اتارے جانے کی اجتماعی کارروائیوں کے مناظر دیکھنے کے بچوں کی نفسیات پر پڑنے والے خطرناک اثرات سے خبردار کیا ہے۔ بچّے ان مناظر سے محظوظ ہو کر انتقامی سیاست کے موقف پر فخر کا اظہار کرتے ہیں اور اس کو ایک طرح کی "ہیرو شِپ" شمار کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں روزانہ سڑکوں پر اعلانیہ طور پر خون ریزی کے مناظر دہرائے جانے کے سبب بچوں کی معصومیت کو مسخ کر دیا گیا ہے۔ یہ رجحان اس نسل کے اندر خوف ، دشمنی اور تشدد کو جنم دے گا جو ان وحشت ناک مناظر کو دیکھ کر پروان چڑھ رہی ہے۔

لیبیا کی فوج کی اسپشیل فورسز کے ایک کمانڈر محمود الورفلی نے چند روز قبل داعش تنظیم کے قیدی ارکان کے خلاف موت کے گھاٹ اتارے جانے کی اجتماعی کارروائی پر عمل درامد کیا تھا۔ اس واقعے نے لیبیا میں رائے عامہ کو ہلا کر رکھ دیا جب کہ اس واقعے کے وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیل گئے۔