.

فلسطینی اراضی : اسرائیلی ردّ عمل کے طور پر یہودی بستی کی آباد کاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت اتوار کے روز اپنے اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں ردّ عمل کے طور پر ایک یہودی بستی کی منظوری کا معاملہ زیر بحث لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ مقام پر گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی ربی کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ واری اجلاس کے ایجنڈے میں مذکورہ یہودی بستی سے متعلق قرارداد کا وزراء کے سامنے پیش کیا جانا شامل ہے۔ اس کے بعد مطلوبہ تعمیراتی اجازت نامہ اور ریاست سے بجٹ حاصل کیا جا سکے گا۔

اسرائیلی ربی رازیئل شیبح کو جنوری میں حفات جلعاد کی بستی کے نزدیک ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس کے ایک ہفتے بعد ربی کے قاتل کی تلاش کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کناے کے شمالی شہر جنین میں ایک فلسطینی کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے بدھ کے روز اپنی گفتگو میں حفات جلعاد بستی کے سرکاری طور پر تسلیم کیے جانے کے حوالے سے بات کی تھی۔

اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی روشنی میں غیر قانونی شمار کیا جاتا ہے۔ بستیوں کی تعمیر امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں کیوں کہ یہ فلسطینی ارضی پر بنائی گئیں۔

اسرائیل کی جانب سے ماضی میں بھی ردّ عمل کے طور پر اندھادھند بستیوں کے حوالے سے کئی بار منظوری دی جا چکی ہے۔