.

کیا داعش کے جنگجو عراق میں سفید پرچم بردارگروپ میں شامل ہو رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی شاجلی گورنری کرکوک میں سکیورٹی فورسز نے ایک نئے ابھرنے والے جنگجو گروپ سفید پرچم (وائٹ بینرز) کے خلاف سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس سلسلے میں عراقی فورسز کی جائنٹ آپریشنز کمان کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالعامر یار اللہ نے کرد ملیشیا البیش المرکہ کے ساتھ ایک اجلاس میں کرد اور عراقی فورسز کے درمیان واقع دفاعی لکیر میں ایک سکیورٹی آپریشن شروع کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہر میں دہشت گرد گروہوں کو خفیہ ٹھکانے بنانے سے روکنے اور وائٹ بینرز گروپ کے جنگجوؤں کی تلاش کے لیے ایک بھر پور کارروائی کی جائے گی۔

وائٹ بینرز گروپ پر حال ہی میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور عدلیہ کے ارکان پر حملوں کا الزام ہے۔جنرل یاراللہ کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے علاوہ داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے خلاف بھی طوز اور کرکوک میں کارروائیاں کی جائیں گی۔

وائٹ بینرز گروپ میں کون شامل ہیں؟

وائٹ بینرز گروپ گذشتہ سال کے آخر میں نمودار ہوا تھا۔اس کا سفید رنگ کا جھنڈا ہے اور اس کے درمیان شیر کے سر کی تصویر ہے۔ ستمبر کے آخر میں بغداد اور خود مختار علاقائی کردستان کے دارالحکومت اربیل کے درمیان تعلقات بگڑنے کے بعد یہ گروپ منظرعام پر آیا تھا۔

اس کے ارکان کی تعداد سیکڑوں میں بتائی جاتی ہے لیکن ان کی کل تعداد دو ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔انھوں نے شمالی عراق میں پہاڑی علاقوں میں اپنے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔عراقی حکام گذشتہ سال دسمبر کے بعد سے وائٹ بینرز گروپ کی دہشت گردی کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے البیش المرکہ پر اس گروپ کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اس گروپ نے عراق کے شمالی شہر طور خرماتو اور دقوق کے درمیان خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔ جنوری میں قومی اتحاد سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان حیدر الفوادی نے کرد جماعتوں اور عراقی حکومت سے اس گروپ کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی کمک بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دسمبر میں ترکمن رکن پارلیمان جاسم محمد جعفر نے وائٹ بینرز گروپ پر دقوق اور طوز کے درمیان شاہراہ پر سفر کرنے والے گیارہ شہریوں کو اغوا کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ انھوں نے کرد لیڈروں پر اس گروپ کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ البیش المرکہ نے سفید پرچم بردار پانچ سو جنگجوؤ ں کو عسکری تربیت دی تھی ۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ داعش کے سابق جنگجوؤں نے اب اس نئے مسلح گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

ادھر صوبے دیالا میں سکیورٹی حکام نے یہ انکشاف کیا ہے کہ داعش کا ایک فعال رکن احمد حکمہ اس مسلح گروپ کی قیادت کررہا ہے اور اس میں زیادہ تر داعش کے سابق جنگجو ہی شامل ہیں۔اس نے دیالا میں داعش کے کنٹرول والے دیہات اور فارموں میں اپنے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔