.

عراق اور شام کی افواج ہماری تزویراتی گہرائی ہیں : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر جنرل حسین سلامی کا کہنا ہے کہ "عراق اور شام کی افواج ایران کے لیے تزویراتی گہرائی کی حیثیت رکھتی ہیں"۔

ہفتے کی شام ایرانی ٹیلی وژن کے ساتھ گفتگو کے دوران سامنے آنے والے اس موقف سے واضح ہو جاتا ہے کہ تہران کی اپنے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ذریعے عسکری اداروں میں کس حد تک سرائیت ہے اور اس نے انہیں خطّے میں اپنے توسیعی منصوبے پر عمل درامد کے لیے آلات کار میں تبدیل کر دیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق سلامی کا کہنا تھا کہ ایران اس امر کی پوری قدرت رکھتا ہے کہ وہ امریکا کا مقابلہ کرے۔ سلامی نے واضح کیا کہ ایران اپنے خلاف عسکری آپشن کو ایک "قائم حقیقت" شمار کرتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ مقابلے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو میزائلوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ سلامی نے باور کرایا کہ "عراق اور شام کی فوجیں ایران کے لیے دفاعی تزویراتی گہرائی کی حییثیت رکھتی ہیں۔ دشمن کے ساتھ جھڑپ کی بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ ایران سے دور علاقوں میں ہوں"۔

عراقی فوج میں ایرانی رسوخ کی توسیع 2014 سے ہوئی جب ایرانی پاسداران انقلاب نے عراقی شیعہ ملیشیا "الحشد الشعبی" کو قائم کیا۔ یہ اقدام داعش تنظیم کے خلاف لڑائی کے بہانے کیا گیا۔ بعد ازاں ان فورسز کو مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں میں ضم کر دیا گیا۔ اس طرح عسکری فیصلوں کے ایک حصّے پر تہران کا کنٹرول ہو گیا۔ واضح رہے کہ 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد سے ہی ایران نے اپنی ہمنوا اُن جماعتوں اور ملیشیاؤں کے ذریعے اثر و روسوخ مضبوط کیا جنہوں نے بغداد میں حکومت کی زمام سنبھالی۔

ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے عسکری امور کے مشیر جنرل یحیی رحیم صفوی نے 28 جنوری 2017 کو کہا تھا کہ عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا ایرانی انقلاب کے نمونے سے متاثر ہو کر تشکیل دی گئی ہے۔ عالمی تنظیموں کی جانب سے مذکورہ ملیشیا پر عراقی شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ مذکورہ خلاف ورزیوں کا وقوع اُن علاقوں میں ہوا جن کو امریکی فوج کی معاونت سے داعش تنظیم سے آزاد کرایا گیا تھا۔ ایران نے گزشتہ برس پاسداران انقلاب کی ذیلی قُدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے مشیرِ اعلی جنرل ایرج مسجدی کو بغداد میں تہران کا سفیر مقرر کیا تھا۔ مسجدی نے الحشد الشعبی ملیشیا قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نئی امریکی انتظامیہ نے عراق میں ایرانی رسوخ کے حوالے سے سابقہ انتظامیہ کے مقابلے میں یکسر مختلف موقف اپنایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے عراق پر قبضہ جما لیا جس پر واشنگٹن تیس کھرب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

شامی حکومت کی فوج پر کنٹرول

شام میں 2012 سے معرکوں کی کمان پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ہاتھوں میں ہے۔ ایران نے شام کے مختلف علاقوں میں 70000 جنگجو بھیجے۔

ایران نے بشار کی فوج کی ہمنوا ملیشیا بھی منظّم کی جس نے زمینی طور پر امور کو سنبھالا ہوا ہے۔ یہ ملیشیا ایرانی باسیج فورس کی طرز پر ہے اور اس کے ارکان کی تعداد 50 ہزار ہے۔ اس ملیشیا کی تنخواہیں ایرانی پاسداران انقلاب ادا کرتی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نِکی ہیلی نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے شام میں بشار حکومت کی سپورٹ کےلیے سالانہ 6 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی۔ 5 جنوری کو عالمی سلامتی کونسل کے اجلاس میں انہوں نے باور کرایا کہ ایران میں عوامی احتجاج میں مظاہرین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ تہران حکومت دہشت گردی کی سپورٹ اور عراق اور یمن میں ملیشیاؤں کو اربوں ڈالر کی فنڈنگ روک دے۔ مذکورہ 6 ارب ڈالر شامی حکومت کی فوج کے لیے عسکری ساز و سامان اور دیگر اخراجات کو پورا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی نظام سالانہ 2 ارب ڈالر شام میں پھیلی ہوئی شیعہ ملیشیاؤں کی تنخواہوں کی مد میں خرچ کر رہی ہے۔

رسوخ میں توسیع کا منصوبہ جاری

اس طرح ایران فرقہ وارانہ جنگیں بھڑکا کر اور دہشت گرد ملیشیاؤں اور جماعتوں کی سپورٹ کے ذریعے علاقائی رسوخ میں توسیع کے حوالے سے اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک مشرق وسطی میں اپنے رسوخ کو کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ولایتی کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کا نفوذ قطعی ہے تا کہ وہ خطے میں مرکزی کھلاڑی کی حیثیت برقرار رکھے۔