.

ٹیکسوں نے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا ہے : حوثی رہ نما کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثیوں کے ایک رہ نما اور باغیوں کی حکومت (بین الاقوامی سطح پر غیر تسلیم شدہ) کے وزیر صنعت و تجارت عبدہ بشر نے اعتراف کیا ہے کہ اُن کی جماعت کی "حربی محنت" کی سپورٹ کے واسطے صنعاء میں تاجروں اور شہریوں پر مسلط کیے گئے "ٹیکس" معاشی ابتری اور قیمتوں میں بارہا اور بلا جواز اضافے کا سبب بنے ہیں۔

مذکورہ وزیر کی جانب سے حوثیوں کی نام نہاد انقلابی کونسل کے سربراہ صالح الصماد اور باغیوں کی حکومت کے سربراہ عبدالعزيز بن حبتور کو بھیجے گئے خط میں کئی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے جن کا نتیجہ قیمتوں میں کئی بار اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔

حوثی وزیر کے مطابق بندرگاہوں پر ٹیکسوں اور تاجروں پر لاگو کیے گئے بھتّوں نے بنیادی اشیاء ، گھریلو گیس اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا۔

حوثی وزیر عبدہ بشر نے اپنی جماعت کو یمنی ریال کی شرح مبادلہ میں بگاڑ کا ذمّے دار ٹھہرایا۔ عبدہ نے حوثی جماعت کے رہ نماؤں کی بدعنوانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بندرگاہوں، کسٹم اور دیگر مختلف سیکٹروں پر عائد ٹیکسوں کی رقوم لوٹنے میں ملوث ہیں۔

حوثی رہ نما نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی جماعت کے زیر کنٹرول صنعاء میں شہریوں کی قوت خرید انتہائی نچلی سطح پر آ گئی ہے، اس کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور قیمتوں میں بار بار ہونے والا ہوشربا اضافہ ہے۔ انہوں نے صنعاء میں معاشی حالت کو "بھیانک آفت" قرار دیتے ہوئے ایک "حقیقی قحط" سے خبردار کیا۔