.

اسرائیلی فصیل ہماری سیادت کے لیے ضرر رساں ہے: لبنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل سرحد پر جو فصیل بنانے کا ارادہ رکھتا ہے وہ لبنان کی خود مختاری اور سیادت سے متصادم ہے۔ یہ موقف لبنانی اور اسرائیلی عسکری اہل کاروں کے درمیان اجلاس میں سامنے آیا جو اقوام متحدہ کی امن فوج کی صدارت میں پیر کو منعقد ہوا۔

مذکورہ فصیل اور متنازع سمندری پانی میں تیل اور گیس کی تلاش کے حوالے سے لبنان کے منصوبوں کے سبب اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اپنے ایک سابقہ بیان میں کہا تھا کہ فصیل کی تعمیر کا کام اسرائیلی زیرِ سیادت اراضی پر ہو گا۔ دوسری جانب لبنان کا کہنا ہے کہ یہ فصیل لبنان کے زیرِ سیادت اراضی کے راستے گزرے گی تاہم یہ اقوام متحدہ کی مقرر کردہ بلیو لائن پر اسرائیلی جانب واقع ہو گی۔ یہ بلیو لائن سال 2000 میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلاء کا خاکہ پیش کرتی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے گزشتہ ہفتے اس جھگڑے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحد پر پیچھے آ گیا اور اب اسے اسرائیلی اراضی پر فصیل کے حوالے سے اعتراض کا سامنا ہے۔

اسرائیلی فریق کے ساتھ اجلاس کے بعد جاری بیان میں لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ "اسرائیل کے سامنے یہ موقف پیش کر دیا گیا کہ لبنانی حکومت اس فصیل کو مسترد کرتی ہے جو اسرائیل لبنانی اور فلسطینی سرحد پر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیوں کہ یہ لبنانی سیادت کو نقصان پہنچائے گی"۔

ادھر اقوام متحدہ کے زیر انتظام امن فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "اس سہ فریقی اجلاس کو بڑی توجہ حاصل رہی کیوں کہ بلیو لائن کے جنوب میں انجینئرنگ کا کام جاری ہے جس کا اسرائیلی فوج نے اس سے قبل اعلان کیا تھا"۔

امن فوج کے مشن کے کمانڈر میجر جنرل مائیکل بیری کے مطابق "بلیو لائن کے ساتھ بڑے پیمانے پر سرگرمیاں تھیں۔ میں جذبات پر اس قابو کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا جس کا مظاہرہ دونوں جانب سے کیا جا رہا ہے تا کہ کشیدگی کم ہو اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ کشیدگی اور تناؤ میں اضافے کی طرف لوٹا جائے"۔