.

اقوا م متحدہ کی شام میں متحارب فریقوں سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے شام میں متحارب فریقوں سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ لڑائی سے متاثرہ ہزاروں افراد کو فوری ہنگامی امداد پہنچائی جاسکے۔

اقوام متحدہ نے منگل کے روز شامی دارالحکومت دمشق سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک کے مختلف علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں انسانی بحران کا خطرہ ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی رابطہ کار اور شام کے لیے خصوصی ایلچی نے فوری طور پر ملک بھر میں ایک ماہ تک جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ضرورت مند افراد تک امداد اور خدمات پہنچائی جاسکیں گی اور شدید بیمار مریضوں اور زخمیوں کو علاج کے لیے دوسرے علاقوں تک منتقل کیا جاسکے گا۔

اس وقت شامی صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اور اس کی اتحادی فورسز شمال مغربی صوبے ادلب اور دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ سمیت مختلف محاذوں پر باغیوں اور جہادیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب شام کے شمال میں واقع عفرین میں ترک فوج اور اس کے اتحادی باغی جنگجو 20 جنوری سے کرد ملیشیاؤں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔

گذشتہ سال شام میں داعش کے سابق صدر مقام الرقہ اور دوسرے مضبوط مرکز دیر الزور میں اس سخت گیر جنگجو گروپ کے خلاف شامی اور اتحادی فورسز کی کارروائی کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے تھے۔ان میں سے ہزاروں ابھی تک اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکے ہیں اور انھیں اس وقت فوری طور پر انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے پہلے سے طے شدہ سمجھوتوں کی بھی پاسداری نہیں کی جارہی ہے ۔اب اگر متاثرہ علاقوں تک رسائی دے دی جاتی ہے تو ہر ہفتے امدادی سامان سے لدے تین قافلے بھیجے جاسکتے ہیں اور ان علاقوں میں دو ماہ میں ستر ہزار افراد تک امدادی سامان پہنچایا جاسکتا ہے۔

امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ شام کے بہت سے علاقوں میں لڑائی کی شدت میں کمی آچکی ہے مگر اس کے باوجود اگر صورت حال میں بہتری نہیں لائی جاتی تو 2018ء کے دوران میں مزید پندرہ لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا اندیشہ ہے۔