.

عراق : داعش کی ہزیمت کے بعد اتحادی کمان نے اپنا مشن تبدیل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم کے خلاف اتحادی افواج کی کمان نے اعلان کیا ہے کہ اُس نے عراق میں اپنی کارروائیوں کا مشن تبدیل کر دیا ہے اور "اس سلسلے میں اب تمام تر توجہ جنگی کارروائیوں میں معاونت سے ہٹ کر داعش تنظیم کے خلاف عسکری فتح کو پختہ کرنے پر دی جائے گی"۔

اتحاد کی جانب سے جاری سرکاری بیان کی کاپی العربیہ کو موصول ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موصل کی فتح نے داعش کے خلاف اگلی کامیابیوں کو تیز کر دیا اور تنظیم اپنے قبضے میں موجود اراضی کے 98 فی صد حصّے سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ تاہم بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ داعش تنظیم ممکنہ طور پر "بغاوت" کی کارروائیوں کی طرف جا سکتی ہے اور وہ اب بھی قتل کی کارروائیاں کرنے کی قدرت رکھنے کے سبب شہریوں اور امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

سال 2014 میں داعش تنظیم نے شام اور عراق کے متعدد شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ پھر اسی برس جون میں تنظیم نے عراق کے شہر موصل پر قبضہ جما لیا اور وہ اپنے کنٹرول کو دارالحکومت بغداد تک پھیلانے کی دھمکیاں دیتی تھی۔

باراک اوباما کی صدارت میں امریکا نے دیکھا کہ اس نے 2011 میں جس عراق کو چھوڑا تھا وہ ڈھیر ہو رہا ہے۔ ملامت کا ایک حصّہ امریکی صدر اوباما کی قسمت میں آیا کہ انہوں نے عراق سے انخلاء میں جلدی کی جب کہ ملامت کا دوسرا اور زیادہ حصّہ اس وقت کے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے تصرّفات کا مقدّر بنا۔ عراقی شہریوں بالخصوص سنّیوں کے نزدیک یہ تصرّفات عراقی شیعوں اور ایران کی طرف داری میں تھے جن سے سنیوں پر ظلم ہوا۔ ایسے میں القاعدہ تنظیم نے البغدادی کی قیادت میں ماحول سازگار پایا۔ پہلے تو تنظیم نے اپنا نام تبدیل کیا اور پھر نئے ارکان بھرتی کرنے میں پھرتی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد شہروں پر قبضے اور وسیع علاقے سے عراقی سرکاری فورسز کو نکالنے کے لیے بھرپور مہم کا آغاز کیا۔

سال 2014 میں امریکا کی عراق میں واپسی ہوئی۔ پہلے تو اس نے فضائی کارروائیاں کیں اور پھر داعش کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے عراقی فوج کی معاونت کے واسطے امریکی فوجویں کو تعینات کیا۔

واپسی کے بعد امریکا نے عراق میں ایرانی فورسز اور شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے ہزاروں ارکان کو پایا جو عراقی حکومت کی مدد کے لیے آئی تھیں۔

امریکیوں کو اب یہ تشویش لاحق ہے کہ ایک مرتبہ پھر وہ سیاسی حالات واپس آ چکے ہیں جنہوں نے داعش تنظیم کے ظہور کی راہ ہموار کی تھی۔ بالخصوص سنی عراقیوں کو یہ احساس ہونا کہ حکومت پر شیعوں کا قبضہ ہے۔ اس کے علاوہ امریکیوں کو اس بات کبھی بہت فکر ہے کہ ایران وسیع پیمانے پر الحشد الشعبی کے مسلح گروپوں کے اندر سرائیت کر گیا ہے اور وہ تہران کے پیروکار بن چکے ہیں۔

امریکا کی اب یہ خواہش ہے کہ عراق میں پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں۔ امریکا اس بات کو باور کراتا ہے کہ اس کی افواج عراق میں باقی رہیں گی اور اب وہ غلطی نہیں دُہرائی جائے گی جو سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے کی۔

داعش کے خلاف اتحاد کے ڈائریکٹر آپریشنز جنرل جوناتھن پیرگا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "عسکری کامیابی نے ہمیں وقت ، جگہ اور امن دیا تا کہ ہم استحکام کی کوششوں اور عراق کے عوام کی مدد کو یقینی بنا سکیں۔ ہم عراقیوں کو معمول کی زندگی لوٹانے کے لیے کام کریں گے"۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "عراق میں ہمارا باقی رہنا بطور مہمان اور عراقی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے ہو گا"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ کبھی بھی انخلاء کا وقت متعین نہیں کیا جانا چاہیے۔ امریکی وزیر دفاع کے مطابق کسی بھی جگہ امریکی افواج کے باقی رہنے کا تعلق ٹائم فریم کے ساتھ نہیں بلکہ حالات کے ساتھ ہے۔ امریکی افواج کی مقرر کردہ ذمے داریوں کے بارے میں بیان میں بتایا گیا کہ مشن میں عراقی سرکاری فورسز کو جدید بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ ان فورسز کے پاس خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور تجربہ ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ اتحاد کی کمان جس خطرے کی بات کر رہی ہے وہ دہشت گرد تنظیموں کا واپس آنا ہے۔ البتہ امریکا کی یہ موجودگی عراق میں ایرانی رسوخ کا مقابلہ کرنے میں ٹرمپ انتظامیہ کی مدد بھی کرے گی۔ امریکی صدر عراق کو ایرانی اثر و رسوخ کے دائرے میں جاتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ان کی انتظامیہ عرب دنیا میں ایرانیوں اور ان کی مداخلتوں کا راستہ روکنے پر کام کر رہی ہے۔