.

یاسمین القحطانی : پہلی سعودی خاتون کوہ پیما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یاسمین القحطانی وہ پہلی سعودی نوجوان خاتون ہیں جنہوں نے حال ہی میں مملکت میں چٹانوں اور پہاڑوں پر چڑھنے والی پہلی کوہ پیما تربیت کار کے طور پر اپنا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے اس کھیل کی تربیت امریکی ریاست شکاگو میں حاصل کی اور انہیں وہاں سے منظور شدہ سرٹفکیٹ بھی ملا۔

یاسمین نے یورپ اور امریکا میں کوئی پیمائی کا تجربہ کیا جس نے انہیں مختلف نوعیت کی مہارتوں کےحصول میں مدد کی۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پتھروں کی اقسام بدل جانے سے چڑھائی کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔

یاسمین کا کہنا ہے کہ چٹانوں پر چڑھنے سے انسان جذبات کو قابو کرنا اور اندیشوں کو چیلنج کرنا سیکھتا ہے۔ یہ کھیل یکسوئی کی قدرت بڑھانے اور جسمانی فٹنس میں اضافے کے لیے مفید ہے۔ یاسمین کے مطابق انہیں ہاتھوں اور پاؤں سے عمودی چٹانوں پر چڑھنے سے عشق ہے۔ یاسمین کے مطابق چٹانوں پر چڑھنا پہاڑوں پر چڑھنے سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ عمل ہے جس میں جسمانی کنٹرول اور توازن کی مہارت پر انحصار ہوتا ہے۔ انہوں نے چٹانوں پر چڑھنے کی ابجد سیکھنے کے لیے اطالیہ کا سفر کیا۔

یاسمین نے بتایا کہ وہ کلمنجارو (تنزانیہ) کی چٹانوں میں 5800 میٹر تک چڑھ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ الب کے پہاڑوں میں 4800 میٹر کی بلندی پر دشوار ترین چٹانوں کو بھی سَر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض بلندیوں کو بنا وقفے کے 12 گھنٹوں کے دوران سَر کیا جا سکتا ہے۔

یاسمین القحطانی گزشتہ تین ماہ کے دوران 150 سے زیادہ مرد اور خواتین کو تربیت دے چکی ہیں۔ انہیں مہم جوئی کی روح سے پُر اس کھیل میں سعودی لڑکے اور لڑکیوں کی بھرپور توجہ نظر آئی۔ یاسمین کے مطابق سعودی خواتین دوسرے ممالک کی نسبت کھیلوں میں شرکت کی دل چسپی کے لحاظ سے برتری رکھتی ہیں۔ یاسمین کا کہنا ہے کہ کوئی پیمائی کے کھیل میں کسی خاص وزن یا غیر معمولی جسمانی قدرت کی نہیں بلکہ سیکھنے کی خواہش کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حجاب کا پہننا عورت کے لیے کوہ پیمائی میں رکاوٹ نہیں۔ اہم چیز یہ ہے کہ وہ حفاظتی ہیلمٹ پہنے۔

یاسمین القحطانی کے مطابق وہ مملکت میں اس کھیل کو پھیلانے اور اس کی تربیت کے لیے کام کریں گی۔