.

اسرائیلی سفیر نے عراقی فن کار نصير شمّہ کو اس طرح چکمہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فن کار نصیر شمّہ نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی اُس تصویر کے حوالے سے وضاحت پیش کی ہے جس میں وہ یونیسکو میں اسرائیلی سفیر کرمل ہکوہن کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ عراق کے 55 سالہ فن کار نصیر موسیقار ہونے کے ساتھ "عود" آلہ بجانے میں مہارت رکھتے ہیں۔

منگل کی شام العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "تفاعلكم" میں گفتگو کرتے ہوئے نصیر نے بتایا کہ یہ تصویر اُس روز لی گئی جب انہیں "امن کے فن کار" کا خطاب دیا گیا اور یونیسکو کے سفیر کے طور پر نامزد کیا گیا۔

نصیر کے مطابق اس روز تقریب میں قریبا تمام ہی شخصیات عراقی تھیں جن میں وزراء اور دیگر چیدہ لوگ شامل ہیں لہذا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ شرکاء میں اسرائیلی سفیر بھی موجود ہوں گے۔

نصیر کے مطابق انہیں ایک شخص سے مل کر حیرت ہوئی جو عراقی لہجے میں بات کر رہا تھا لہذا میں اسے عراقی باشندہ سمجھا۔ نصیر نے مزید کہا کہ "اس روز میں ہر اس شخص کے ساتھ تصویر بنوا رہا تھا جس نے مجھ سے درخواست کی۔ مذکورہ شخص نے بھی مجھ سے گزارش کی، اس دوران یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل بھی آ گئیں۔ اس طرح ہم تینوں نے معمول کی تصویر بنوائی"۔

اگلے روز اسرائیلی سفیر نے جن کے بارے میں بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ عراقی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اس تصویر کو پوسٹ کر دیا۔ ساتھ میں یہ تبصرہ بھی شامل کر دیا کہ انہوں نے نصیر کے ساتھ گفتگو کی اور کئی چیزوں پر دونوں میں اتفاق ہو گیا۔ دوسری جانب نصیر شمّہ کا کہنا ہے کہ اس قدر بھیڑ کے بیچ کسی کے ساتھ گفتگو کا موقع نہ ملا اور زیادہ سے زیادہ بات چیت کا دورانیہ بھی درحقیقت چوتھائی منٹ تھا۔

جہاں تک ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا تعلق ہے تو نصیر شمّہ نے بتایا کہ انہوں نے تو ماسٹرز کی سطح پر مقالہ جمع کرایا تھا تاہم امتحانی کمیٹی کے نزدیک مقالے میں موسیقی کے اسلوب سے متعلق ایسے جدید نظریات پیش کیے گئے جس کو 40 برس سے کسی نے موضوع بحث نہیں بنایا تھا۔ لہذا کمیٹی نے اس مقالے کو ڈاکٹریٹ کی سطح کے لیے منظور کرنے کی سفارش کی جس کو یونی ورسٹی نے قبول کر لیا اور نصیر شمّہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دی گئی۔