.

روسی ہواباز کی لاش اس طرح "چوری" کر کے ترکی منتقل ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو روز قبل روسی میڈیا نے بتایا تھا کہ ماسکو روسی ہواباز رومین فیلیبوف کی لاش واپس لینے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔ مذکورہ ہواباز کا su 25 طیارہ ہفتے کے روز شام میں اِدلِب کی فضا میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

روسی ہواباز کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ اس کی زندگی کا اختتام شامی اپوزیشن کے مسلح عناصر کے ساتھ جھڑپوں کے بعد دستی بم کے ذریعے خود کشی کی صورت میں ہو گا۔

تاہم رومین کی لاش جو ہیئۃ تحریر الشام تنظیم کے پاس محفوظ تھی راتوں رات غائب ہو گئی اور کسی معلوم بھی نہیں یہ کیسے ہوا ؟

منگل کی شام اِباء نیوز ایجنسی نے بتایا کہ رومین کی لاش چوری ہو چکی ہے۔ ایجنسی نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ روسی ہواباز کی لاش شامی اپوزیشن کے ایک گروپ نے غائب کی ہے۔ ذریعے کے مطابق معاملے کی پیروی کی جا رہی ہے اور اس گھناؤنی حرکت کا ارتکاب کرنے والوں کو شرعی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

لاش چوری کی اس واردات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں ہیں تاہم غالب گمان ہے کہ ترکی کے مقرّب گروپوں نے لاش کو لے کر اِدلِب سے ترکی کی جانب بھیج دیا تا کہ ترکی اپنے طور پر اسے روس منتقل کر دے۔

روسی وزارت دفاع نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ میجر رومین کی لاش ترکی کے حکام کی مدد سے وطن واپس آ چکی ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ وہ کیا قیمت ہے جو روس نے اس لاش کے مقابل ترکی کی ضمات کے عوض چکائی ؟

بلا شبہ آںے والے دنوں میں ان خفیہ امور پر پڑا ہوا پردہ اٹھ جائے گا۔

روس میں کرملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بیسکوف یہ باور کرا چکے ہیں کہ کندھے پر رکھ کر استعمال کیے جانے والے میزائل جو شامی اپوزیشن کے ہاتھ آئے ہیں وہ شام میں کارروائی کرنے والے تمام طیاروں کے لیے خطرہ ہیں۔ تاہم یہ جاننا قبل از وقت ہو گا کہ اپوزیشن جنگجوؤں کو ہتھیاروں کا یہ نظام کس نے فراہم کیا جو روسی طیارے کو گرانے کے لیے استعمال میں آیا۔