.

عراقی کردستان کا 4 ہزار غیرملکی داعشیوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبہ کردستان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کرد سیکیورٹی فورسز نے داعش کے خلاف جاری جنگ کے دوران تنظیم کے 4000 غیرملکی جنگجوؤں کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے دو جنگجوؤں کو ان کے ملکوں کے حوالے کردیا گیاہے۔

کردستان کی صوبائی حکومت نے عالمی رابطہ کار دیندار زیباری نے اربیل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سنہ 2014ء سے 2017ء کے دوران کرد فوج بیشمرگہ نے داعش سے تعلق رکھنےوالے 2500 جنگجوؤں کو حراست میں لیا۔ الحویجہ میں داعش کے خلاف آپریشن میں 1000 جنگجوؤں نے خود کو فوج کے حوالے کیا۔ کرکوک سے 350 داعشی گرفتار کیے گئے جنہیں بعد ازاں ’الاسائش‘ جیل منتقل کردیا گیا۔

دیندار زیباری نے کہا کہ داعش کے گرفتار دہشت گردوں کے بارے میں اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کو تمام معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ صوبے سے باہر ان کے اہل خانہ کو بھی بتا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کردستان حکومت پر بعض ملکوں کی جانب سے گرفتار دہشت گردوں کی حوالگی کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے مگر اربیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ہی زیرحراست افراد کو دوسرے ملکوں کے حوالے کرسکتا ہے۔