.

غربِ اردن :اسرائیلی فوج کی مظاہرین پر فائرنگ ، ایک فلسطینی شہید،29 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک چھاپا مار کارروائی کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور انتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے فوجیوں نے غربِ اردن کے شہر نابلس میں ایک حملہ آور کی تلاش میں کارروائی کی تھی۔اس شخص پر غربِ اردن ہی میں واقع ایک یہودی بستی ایریل میں ایک اسرائیلی آباد کار پر چاقو حملے کا الزام ہے۔

اسرائیلی فوجیوں کی اس کارروائی کے خلاف قریباً پانچ فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔قابض فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’احتجاج کرنے والے فلسطینیوں نے فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور آتش گیر بم پھینکے ہیں۔فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور دوسرے ’’ ذرائع ‘‘ استعمال کیے ہیں۔فائرنگ سے ایک فلسطینی کی موت اور متعدد کے زخمی ہونے سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے‘‘۔

دوسری جانب فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید اور انتیس زخمی ہوگئے ہیں۔فلسطینی انجمن ہلال احمر نے بھی مظاہرین کی اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپ کی تصدیق کی ہے۔

اس مبینہ حملہ آور کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کا عرب شہری ہے اور بعض رپورٹس کے مطابق اس کا والد نابلس میں مقیم ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس چھاپا مار کارروائی میں یہ مشتبہ نوجوان نہیں پکڑا گیا اور سات دیگر افراد کو پوچھ تاچھ کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے منگل کے روز غربِ اردن کے ایک گاؤں یامون میں ایک فلسطینی نوجوان کو شہید کردیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ مزاحمت کاروں کے ایک مسلح سیل کا سربراہ تھا۔اسی سیل نے 9 جنوری کو ایک یہودی آباد کار کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ یہودی ربی رزائیل شیوہ کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے سیل کے ایک اور رکن کی تلاش میں ہے۔اسرائیلی کمانڈوز نے پہلے ہی ایک فلسطینی کو اس یہودی ربی کے قتل کے الزام میں ہلاک کردیا تھا اور ایک کو گرفتار کر لیا تھا۔