.

لیبیا : موت کی وڈیوز کے مرکزی کردار "الورفلی" نے خود کو حوالے کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج میں اسپیشل فورسز کے افسر محمود الورفلی نے منگل کی شام منظر عام پر آنے والے ایک وڈیو کلپ میں خود کو فوج کے زیر انتظام ملٹری پولیس کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد اُن الزامات کے حوالے سے تحقیقات ہیں جو جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے الورفلی پر عائد کیے ہیں۔

الورفلی کے مطابق المرج شہر میں خود کو ملٹری پولیس کے حوالے کرنے کی کارروائی لیبیا کی فوج کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر کی ہدایات پر عمل میں لائی جا رہی ہے۔ حفتر نے عالمی سطح پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لیے الورفلی کو فوری طور پر حراست میں لینے کا حکم جاری کیا تھا۔

جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے الورفلی کے خلاف گرفتاری کے کئی وارنٹ جاری کیے۔ یہ وارنٹ اُن متعدد وڈیو کلپوں کے منظر عام پر آنے کے بعد جاری ہوئے جن میں الورفلی کے ہاتھوں دہشت گرد عناصر کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ آیا مشرقی لیبیا کے حکام الورفلی کو جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے حوالے کریں گے یا پھر اس کے خلاف ملک کے اندر لیبیائی قوانین کے تحت عدالتی کارروائی ہو گی۔