.

"خاندانی استعداد".. شادی کے خواہش مند افراد کے لیے ایک نیا امتحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں قومی ادارہ برائے پیمائش و تجزیہ نے شادی کے خواہش مند افراد کے لیے "خاندانی استعداد" کے نام سے ایک امتحان کی منظوری دے دی ہے۔ اس امتحان کو رکھنے کا مقصد مملکت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی طلاقوں کی تعداد پر روک لگانا ہے۔ بعض نوبیاہتا جوڑوں کے درمیان سماجی ، ثقافتی ، فکری اور ذہنی عدم موافقت کے نتیجے میں شادی کے پہلے سال ہی طلاق کی نوبت آ جاتی ہے۔

خاندانی بہبود کے مرکز سے وابستہ مشیر عادل الخوفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مملکت میں 80% طلاقیں شادی کے پہلے سال ہی واقع ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے اس رجحان کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے لیے خاندان بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔

الخوفی نے واضح کیا کہ "خاندانی استعداد" کے نام سے وضع کردہ امتحان مملکت میں طلاق کی شرح کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ یہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے آئندہ ازدواجی زندگی میں کامیاب ہونے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ یہ پیمائش اس بات کا تعیّن ہو گا کہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے خواہش مند مرد اور عورت کے درمیان نفسیاتی اور سماجی استعداد اور فکری و ثقافتی موافقت کس حد تک پائی جاتی ہے۔

الخوفی نے اس امید کا اظہار کیا کہ شادی کے خواہش مند خواتین اور حضرات کے لیے یہ امتحان لازم کر دیا جائے گا اور ان کے لیے مستقل بنیادوں پر تربیتی کورس کا انعقاد بھی کیا جائے گا تا کہ ایک مستحکم اور موافقت کا حامل خاندان وجود میں آ سکے۔

یاد رہے کہ قومی ادارہ برائے پیمائش و تجزیہ کی جانب سے تجرباتی بنیادوں پر متعارف کرایا جانے والا "خاندانی استعداد" کا امتحان مفت اور اختیاری ہے۔ عرب دنیا کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کی ایک نظیر ہے۔