.

آیئے آپ کو سوانا باتھ کارنر اور سوئمنگ پول سے مزین 'مزار' کی سیر کرائیں!

عوام ناں جویں تو ترسیں، مگر تہران حکومت نے مزار کی ترئین وآرائش پر نوملین ڈالر پھونک دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرپشن، بدعنوانی، دھوکا دہی اور عوامی املاک کی لوٹ مار کی خبروں کی جلو میں ایک حیران کن خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک ’بزرگ‘ شخصیت کے مزار کی تزئین وآرائش پر 30 ارب ایرانی تومان پھونکے گئے ہیں۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 9 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اس پر پرتعیش ’مزار‘ سے متعلق خبر پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں ’وَنک‘ کے مقام پر واقع مزار میں سوانا باتھ کے لئے پرتعیش حمام اور سوئمنگ پول بنایا گیا ہے جس کی تیاری پر نو ملین ڈالر کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

ایرانی اصلاح پسند صدر حسن روحانی کے ایک قریبی رکن پارلیمنٹ قاسم میرزائی کا اس مزار سے متعلق بیان ’خبر آن لائن‘ ویب سائٹ نے نقل کیا ہے۔ اس بیان میں ان کا کہنا ہے کہ اعلانیہ بجٹ سے ماورا دینی اداروں کے ذریعے مساجد، مذہبی مراکز، مزارات اور دیگر مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر رقم خرچ کرنا ایک سربستہ راز ہے۔ یہ رقوم کہاں سے آتی ہیں اور انہیں کس کے کہنے پر مزاروں کی تزئین وآرائش پر خرچ کیا جاتا ہے جب کہ ایران میں بسنے والے لاکھوں زندہ لوگوں کو دو وقت کا کھانا بھی مسیر نہیں۔ قاسم میرزائی نے اپنے بیان میں تہران کے موجودہ میئر محمد علی نجفی کی تیار کردہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس رپورٹ میں بلدیہ کی جانب سے ماضی میں خرچ کردہ بجٹ کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں محمد علی نجفی نے تہران میں مذہبی تقریبات، امام بارگاہوں اور دیگر ثفاتی اور مذہبی اداروں اور ان میں ہونے والی تقریبات کے بجٹ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ قاسم میرزائی نے دارالحکومت تہران میں علی نجفی کے دور سے قبل تیار ہونے والے ایک مزار کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق میئر باقر قالیباف کے دور حکومت میں تہران میں ونک کے مقام پر ایک مزار کی تزئین وآرائش پر نو ملین امریکی ڈالر کے برابر رقم کرچ کی گئی۔

اس منفرد مزار کے حجرے میں سوانا باتھ کارنر، سوئمنگ پول اور جدید سہولیات سے آراستہ ایک کھلا حمام بھی تیار کیا گیا ہے۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں مہنگائی، معاشی عدم مساوات اور بے روزگاری کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔ دوسری طرف حکومتی اداروں کی شہ خرچیوں کا عالم یہ ہے کہ وہ گم نام شخصیات کے مزاروں پر بوریاں بھر پر پیسے خرچ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ تہران کے سابق میئر محمد باقر قالی باف سخت گیر سابق فوجی جنرل ہیں۔ انہیں تین بار صدارتی انتخابات کے لیے بھی امیدوار نامزد کیا گیا مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ان کا آخری بار مقابلہ حسن روحانی کے ساتھ تھا جس میں انہوں نے 2017ء کے انتخابات میں شکست دے دی تھی۔

قاسم میرزائی نے تہران میں مزار پر خرچ کی گئی خطیر رقم سے متعلق سوال ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے دوران اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں عوام کو دو وقت کا کھانا میسر نہ کیا وہاں پر مزارات کی تزئین کے لیے اتنی بھاری رقم کیسے خرچ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مزار پر خرچ کی گئی رقم کی انتظامی اور عدالتی سطح پر ضرورت تحقیقات کی جائیں گی۔

تاہم میرزائی نےسوئمنگ پول، بھاپ غسل خانےاور حمام والے اس لگژری مزار کی نشاندہی نہں کی اور صرف اتنا بتایا ہے کہ وہ مزار ’ونک‘ کے مقام پر واقع ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے حوالے سے اس مزارکی نشاندہی کی کوشش کی ہے۔ فارسی ویب سائیٹس کے مطابق ’وَنک‘ کے مقام پر صرف ایک ہی مزار موجود ہے۔ یہ مزار امام سجاد علی بن الحسین کے ایک پوتے ابو القاسم علی بن محمد المعروف ’قاضی صابر‘کا بتایا جاتا ہے۔ قاضی صابر 897 سال قبل اسی شہرمیں پیدا ہوئے اور اسی میں مدفون ہوئے مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سلسلہ حسینی، قرشی الھاشمی شمالی تہران کیسے پہنچا۔