.

بنغازی کی سڑکیں سنسان ۔۔۔ جلاد صفت ’ڈان‘ آزاد!

ماورائے عدالت 33 افراد کے مبینہ قاتل کی حمایت میں مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں زیرحراست داعشی جنگجوؤں کو برسرعام موت کے گھاٹ اتارنے کے باعث شہرت حاصل کرنے والے قاتل 'ڈان‘ کو معمولی پوچھ تاچھ کے بعد رہا کردیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر جنگجوؤں کو ماورائے عدالت قتل کرنے میں شہرت حاصل کرنے والے لیبی فوج کی ایلیٹ فورس میں شامل میجر محمود الورفلی نے منگل کے روز خود کو حکام کے حوالے کردیا تھا۔

الصاعقہ فورس کے شعبہ اطلاعات کے انچارج ریاض الشھیبی نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا کہ ’جلاد افسر‘ کے لقب سے مشہور میجر الورفلی کو آج رہا کردیا گیا ہے۔

’اسپٹنک‘ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے الشھیبی نے کہا کہ ملٹری پولیس نے میجر محمود الورفلی کو حراست میں لیا تھا۔ اسے تفتیش مکمل کرنے کےبعد رہا کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ محمود الورفلی عالمی عدالت انصاف کی طرف سے مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے باعث اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ محمود الورفلی پر ماورائے عدالت قتل کے7 کیسز ہیں جن میں اس پر 33 افراد کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز لیبی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے یقین دلایا تھا کہ میجر الورفلی کے وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو عمدہ طریقے سے حل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ الورفلی کیس کو لیبیا کے فوجی قوانین کے مطابق حل کریں گے۔

ادھر بنغازی میں بدھ کے روز شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر میجر الورفلی کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کردیں۔ انہوں نے عالمی عدالت انصاف کی طرف سے میجر ورفلی کو اشتہاری قرار دیے جانے اور اسے حوالے کرنے کے مطالبے کی بھی شدید مذمت کی۔ مظاہرین نے محمود الورفلی کو فوری رہا کرنے اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔