.

شاہ سلمان کی زیر سرپرستی قومی ثقافتی میلے’الجنادریہ‘ کا آغاز

میلے میں عرب اور عالمی رہ نماؤں سمیت بڑی تعداد میں مشاہیر کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے قومی ثقافتی میلے ’الجنادریہ‘ کی رنگا رنگ تقریبات کل بدھ کو شروع ہو گئی ہیں۔ 32 الجنادریہ میلے کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی موجودگی میں ہوا۔ اس موقع پر متعدد خلیجی عرب ممالک کے اعلیٰ حکام، شیوخ اور دوسرے ملکوں کی نمائندہ شخصیات موجود تھیں۔

میلے کا آغاز مقامی وقت کے مطابق ظہر کے بعد اونٹوں کی دوڑ کے ایک مقابلے سے ہوا۔ سعودی عرب میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سالانہ میلہ ہے جس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک بھی وفود شرکت کرتے اور مختلف ثقافتی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

اونٹوں کے مقابلے میں پہلی پانچ پوزیشنیں حاصل کرنے والے خوش نصیبوں میں شاہ سلمان کی جانب سے سونے کی تلواریں، جدید گاڑیاں اور بھاری رقوم کے انعامات تقسیم کیے۔

میلے میں بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج اور کئی دوسری غیرملکی شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر45 منٹ پر مشتمل ’اوبریٹ‘ موسیقی ڈرامہ پیش کیا گیا جس میں سعودی عرب کے قیام کے بعد آج تک کے حالات پر تمثیلی انداز میں روشنی ڈالی گئی۔

اوبریٹ میں فن کا مظاہرہ کرنے والے فن کاروں میں محمد عبدہ، رابح صقر، راشد الماجد، عبدالمجید عبداللہ ، ماجد المہندس اور راشد الفارش شامل تھے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں الجنادریہ میلے کا آغاز 1980ء کے عشرے میں کیا گیا تھا۔ اس میلے کے انعقاد کا مقصد سعودی عرب کے قومی ثقافتی ورثے کا تحفظ ہے۔ سعودی عرب میں نیشنل گارڈز کے زیرنگرانی یہ میلہ تین ہفتوں تک جاری رہے گا۔