.

’جب شام میں امدادی کارکن کواپنا ہی بچہ ملبے سے نکالنا پڑا‘

اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری کا نیا لرزہ خیزمنظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ میں روسی اور اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں دسیوں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، خدشہ ہے کہ ملبے تلے اب بھی زندہ انسان ہو سکتے ہیں۔

مشرقی الغوطہ میں جنگی جرائم کی مرتکب اسدی فوج کے ہاتھوں پامال ہونے والی انسانیت کے لرزہ خیز مناظر میں وہ فوٹیج بھی شامل ہے جس میں ایک امدادی کارکن کو اپنے بیٹے کو ملبے تلے سے نکالنا پڑا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک فوٹیج میں سقبا شہر کے ایک امدادی کارکن کو اپنا زخمی بچہ اٹھائے دکھایا گیا ہے۔ یہ بچہ اسدی فوج کی وحشیانہ بمبار کے نتیجے میں زمین بوس ہونے والے ایک مکان کے ملنے سے نکالا گیا۔

امدادی کارکن سعید اپنے کم سن بچے کو ایک ایسے وقت میں اسپتال لےکر گیا جب اسدی فوج اور روسی طیاروں کی الغوطہ پر مسلسل بمباری جاری تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’آبزر ویٹری‘ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران بغیر کسی وقفےسے سبقا، عربین، مسرابا اور دوما میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ دو روز کے دوران شامی فوج کی بمباری کے انتہائی المناک مناظر سامنے آئے ہیں۔ تازہ وحشیانہ بمباری کے بعد شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان امن بات چیت کی مساعی بھی خطرےمیں پڑ چکی ہیں۔