.

’سعودی عرب نے 40 ہزار یمنی باشندوں کو ورک ویزے جاری کیے‘

مٹھی بھر باغیوں نے یمنی قوم کو یرغمال بنا لیا: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے عرب اتحاد نے یمن کی تمام بندرگاہوں کو واپس ان کی اصل حالت میں لانے کے لیے ان کی مدد کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک اور یمنی حکومت کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت چاروں یمنی بندرگاہوں کرینوں کی انشورنس کی گئی ہے جس کا مقصد ان بندرگاہوں کی استعداد کو 90 فی صد مزید بڑھانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سعودی سفیر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کے ایران نواز حوثی باغی محاذ جنگ میں کم عمر بچوں کو بھی جھونک رہے ہیں۔ بچوں کو جنگ کےایندھن کےطور پر استعمال کرنےکی حوثی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ باغی شدید افرادی قلت کا شکار ہیں۔

دوسری جانب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یمن میں جنگ میں جھونکے بچوں کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ شاہ سلمان ریلیف مرکز کے زیراہتمام ایسے دسیوں بچوں کو محاذ جنگ سے واپس لا کر انہیں اسکولوں میں بھیجا گیا۔ حوثی باغی بچوں سے قلم اور کتاب چھین کر انہیں بندوق تھما رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یمن میں سعودی عرب کا سفارت خٰانہ واحد سفارت خانہ ہے جو یمنی باشندوں کو سعودیہ میں ملازمت کے لیےویزے دے رہا ہے۔

یمنیوں کے لیے 40 ہزار ورک ویزے جاری

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یمن میں سعودی عرب کے سفیر نے بتایا کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران ہم نے یمنی بھائیوں کے لیے 40 ہزار ورک ویزے جاری کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان بحری آمد روفت کے لیے 9 راستے ہیں جن میں سے تین حوثیوں کے قبضے میں ہیں۔ المخا اور عدن کی بندرگاہوں کی بحری راہ داریاں حوثیوں نے تباہ کردی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں کی بحالی کے لیے ان کی مالی مدد کررہےہیں۔ مدد کی ایک شکل کرینوں کی موجودگی کو یقینی بنانا، نئی کرینیں لگوانا اور خراب کرینوں کی مرمت کرنا ہے۔ عرب ممالک اور یمنی حکومت کے درمیان طے پائے معاہدے میں بندرگاہوں کی کرینوں کی انشورنس بھی شامل ہے۔ المخا بندرگاہ کی دو، عدن کی ایک، المکلا بندرگاہ کی چار کرینوں کی انشورنس کے ساتھ بحری راہ داریوں سے تجارتی نقل وحرکت کو بھی مزید تیز کیا گیا ہے۔

کرینز بندرگاہوں کو متحرک کرنے کا ذریعہ

یمن میں سعودی سفیر محمد آل جابر نے کہا کہ درآمدات وبرآمدات کی امدورفت کو مزید تیز کرنے کے لیے بندرگاہوں پر کرینوں کی تنصیب ضروری ہے۔ کرینز بندر گاہوں کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ بندرگاہوں کے راستے سے یمن میں نہ صرف تجارتی سامان کی ترسیل کی راہ ہموار ہو رہی ہے بلکہ جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے لائی جانے والی امداد بھی پہنچ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یمن کی تمام بندر گاہوں کو حوثیوں کے قبضے سے چھڑانے کے بعد ان کی استعداد کار کو 90 فی صد تک بڑھانا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں پر نئی کرینوں کی تنصیب تین یا چار ہفتوں کے دوران ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں یمنی حکومت کو تیزی کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ سعودی عرب بندرگاہوں کی بحالی کے لے بیس سے تیس لاکھ ڈالر کی امداد دینے کو تیار ہے۔

یمنی کرنسی کے استحکام میں سعودی مدد

محمد آل جابر نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے مرکزی بنک کو دی جانے والی امداد کے باعث یمن کی قومی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ یمنی ریال ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 100 پر آگیا ہے۔ تاجر پیشہ طبقے نے کرنسی میں استحکام سے فائدہ اٹھانے پر غور شروع کیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے مرکزی بنک کو دی جانے والی امداد کے نتیجے میں عام یمنی شہریوں معیار زندگی پر مبثت اثرات مرتب ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں حوثیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آل جابر نے کہا کہ ایک مٹھی بھر ٹولے نےپوری یمنی قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یمن کی آئینی حکومت کے خلاف لڑنے والے تعداد میں بہت تھوڑے ہیں۔ یمنی عوام کی اکثریت سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، انسانی اور ثقافتی تعلقات کا اعتراف کرتی ہے۔ یہ بات یمنی عوام بھی جانتے ہیں کہ سعودی عرب ان کا دوسرا گھر ہے۔ جنگ کےدوران سب سے بڑھ کر اگر یمنی قوم کی کسی نے مالی امداد کی تو وہ سعودی عرب ہے۔