.

سعودی خاتون باکسر نے خواتین کے بارے میں سوچ کیسے تبدیل کی؟

باکسنگ سے ’خوشی کے ہارمونز’ کی نشو نما میں مدد ملتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نوجوان باکسنگ کوچ ھالہ الحمرانی نے باکسنگ کے کھیل سے متعلق معاشرے میں پائے جانے والے منفی رحجانات اور خیالات کو اپنے عزم سے شکست دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ سعودی خواتین کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے خاتون باکسر ھالہ الحمرانی نے کہا کہ وہ ایک منفرد نوعیت کی باکسر ہیں۔ انہیں اپنی ذات پر مکمل بھروسہ، مشکلات کا مقابلہ کرنے اور خوشیاں سمیٹنے کی پوری صلاحیت ہے۔

خیال رہے کہ ھالہ الحمرانی کے والد سعودی اور والدہ امریکی ہیں۔ انہوں نے 16 سالہ کی عمر میں جاپانی جوڈو کھیل ’جوگٹسو‘ کے مقابلوں میں حصہ لیا اور اپنے دفاع اور فنون قتال میں مہارت حاصل کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی خواتین مختلف کھیلوں کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔

اس کا کہنا تھا کہ میں نے 28 سالہ اپنے پیشہ وارانہ سفر کے دوران اپنی ذات کے دفاع کے مختلف طریقوں میں مہارت حاصل کی۔

الحمرانی نے سعودی عرب میں خواتین کو باکسنگ کی تربیت کے لیے ایک مرکز قائم کیا ہے۔ اس مرکز میں 120 خواتین کو ابتدائی باکسنگ، اپنی ذات کے دفاع کے طریقوں، باکسنگ کراس فٹ اور دیگر مختلف طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواتین کو باکسنگ سکھانے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں پرتشدد کارروائیوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔ باکسنگ اور دیگر فنون دفاع نفس سکھانے کا مقصد خواتین میں اپنے دفاع کا جذبہ پیدا کرنا اور انہیں اپنی ذات پر اعتبار کرنے کا حوصلہ مہیا کرنا ہے۔

خوشی کے ہارمونز

ایک سوال کے جواب میں ھالہ الحمرانی نے کہا کہ کھیل خواتین کو جسمانی فٹنس کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ہمارا مقصد بھی خواتین کو تشدد پر اکسانا ہرگز نہیں۔ بلکہ ہم انہیں زندگی کے دوران دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپورٹس سرگرمیوں اور باکسنگ کے نتیجے میں جسم میں ’انڈورفین’ نامی ہارمون کو نشو نما کا موقع ملتا ہے۔ عرف عام میں انہیں ’خوش کے ہارمونز‘ کہا جاتا ہے۔

الحمرانی نے کہا کہ اسپورٹس سرگرمیوں میں حصہ لینے کی کوئی خاص عمرنہیں ہوتی اور عمر کی قید سے آزاد ہو کر خواتین کو ان میں سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے۔