.

عراقی کرد فورس پر تاریکی میں قیدیوں کے اجتماعی قتل عام کا الزام

’ہیومن رائٹس واچ‘ کا قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ عراقی کردستان کی سیکیورٹی فورس ’الاسائش‘ زیرحراست سیکڑوں جنگجوؤں کو ماورائے عدالت قتل کی مرتکب ہوئی ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرد فورس’الائش‘ جنگی جرائم کی مرتب ہوئی ہے۔ اس گروپ پر الزام ہے کہ اس کے عناصر نے حراست میں لیے گئے سیکڑوں مبینہ داعشی جنگجوؤں کو رات کی تاریکی میں موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے ’الاسائش‘ کے ایک سابق عہدیدار اور چھ عام شہریوں نے گواہی دی ہے کہ الپیشمرگہ فورسز کی جانب سے شمال مغربی موصل کے ساحلی علاقے الملیحہ سے حراست میں لیے سیکڑوں داعشی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ داعش کے گرفتار جنگجوؤں کو شہر سے45 کلو میٹر دور شکیلیا جیل منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں اجتماعی طورپر موت کے گھاٹ اتار کر اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔

سیکڑوں قیدیوں کا قتل عام

ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ لمیٰ فقیہ نے بتایا کہ ان کے پاس ’الاسائش‘ کرد فورس کے ہاتھوں رات کی تاریکی میں سیکڑوں قیدیوں کو اجتماعی طورپر موت کے گھاٹ اتارے جانے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی طورپر قتل کیے گئے داعش کے ان مرد قیدیوں کی تعداد کئی سو ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اس اجتماعی قتل عام کی سرکاری سطح پر فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر کرد فورسز کے اہلکار قیدیوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے اجتماعی قتل کا یہ واقعہ 28 اگست سے 3 ستمبر کے درمیان پیش آیا۔

دوسری جانب کردستان کی حکومت نے حراست میں لیے گئے داعشی قیدیوں کو اجتماعی طورپر ماورائے عدالت قتل کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ کردستان حکومت کے ایک عہدیدار دیندار زیباری کا کہنا ہے کہ الپیشمرکہ فورسز نے داعش کے خلاف 71 کلو میٹر کے علاقے میں حصہ لیا۔ اس دوران بچ جانے والے داعشی شام فرار ہو گئے تھے۔