.

مصر: بچوں کی آن لائن خرید وفروخت کا لرزہ خیز دھندا طشت ازبام

مرکزی ملزم کا تعلق عرب ملک سے ہے لیکن وہ ان دنوں ہالینڈ میں مقیم ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام نے بچوں کی آن لائن خرید وفروخت کے ایک لرزہ خیز دھندے کا انکشاف کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مصرمیں ایک ویب سائٹ پر پوسٹ ایک اشتہار میں بڑے دھڑلے کے ساتھ کہا گیا ہے کہ’ہمارے پاس ہرعمر کے بچے برائے فروخت موجود ہیں۔ بچوں کو گود لینے یا ان کی خرید وفروخت کے خواہش مند حضرات ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں‘۔ اس خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد پورے مصری معاشرے میں سراسیمگی اور صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بچوں کی خریدو فروخت میں ملوث ویب سائٹ کی جانب سے نو مولود، شیر خوار اور مختلف عمر کے گم نام بچوں کو فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تاہم ایک عمر کے بچوں، بچیوں، ان کی جلد کی رنگت، طبی حالت، بالوں اور آنکھوں کی رنگ، نر اور مادہ کی یکساں قیمت مقرر کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا سے دھندے کی نشاندہی

تفصیلات کے مطابق بچوں کی خریدو فروخت کا دھندا کرنے والی اس ویب سائیٹ کا پتا اس وقت چلا جب مصرکے ایک نوجوان رامی الجبالی کے گم شدہ بچوں سے متعلق سوشل میڈیا پر بنائے گئے ایک صفحے پر شامل شہریوں نے اس دھندے کا بھانڈا پھوڑا۔

رامی الجبالی کے اس صفحے کے فالورز کی تعداد 12 لاکھ سے زیادہ ہے۔یہ صحفہ گم شدہ بچوں تلاش میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس میں لاپتا ہونے والے بچوں کی شناخت کے لیے ان کی تصاویر اور دیگر معلومات پوسٹ کی جاتی ہیں۔

رامی الجبالی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چند ماہ قبل اسے یہ سوشل میڈیا ہی سے اطلاع ملی کہ الشرق شہر میں ایک فلیٹ میں مختلف گم شدہ بچے موجود ہیں۔

اس فلیٹ میں لوگ فیملی کی شکل میں آتے ہیں اور وہاں سے اپنے ساتھ بچے لے کر جاتے ہیں۔ وہاں پر مہنگی کاریں بھی دیکھی گئی ہیں۔ پڑوسیوں کو شبہ ہوا کہ اس فلیٹ میں بچوں کی خرید وفروخت کا دھندا کیا جاتا ہے۔ پولیس نے چھاپا مار کر وہاں سے متعدد جرائم پیشہ عناصر کو حراست میں لے لیا جس نے لوگوں کے شک کو یقین میں بدل دیا۔

بچوں کا تاجر عرب نژاد مگر ہالینڈ میں مقیم ہے

رامی الجبالی نے بتایا کہ مصرمیں بچوں کی خریدو فروخت میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے بعد مزید تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ آن لائن بچوں کی فروخت کا دھندہ کرنے والا اصل مجرم ایک عرب ملک کا باشندہ ہے مگر وہ اس وقت ہالینڈ میں رہائش پذیر ہے۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے بچوں کے کاروبار میں ملوث متعدد جرائم پیشہ عناصر کو حراست میں لیا جب کہ کئی دوسرے ملزمان کا تعاقب اور تلاش جاری ہے۔ حکام کو بچوں کی خریدو فروخت کے مکروہ دھندے کے طریق کار کا مکمل علم ہوچکا ہے۔

بچوں کی عمر کے تناسب سے ان کی قیمت لگائی جاتی ہے۔ آن لائن فروخت کے لیے پیش کردہ بچوں میں سے بعض 30 ہزار مصری پاؤنڈز سے دو لاکھ مصری پاؤنڈز تک دستیاب ہیں۔