.

یمن: فوج نے حوثیوں کے ہاتھوں لوٹا گیا امدادی سامان قبضے میں لے لیا

’اقوام متحدہ کی لوٹی امداد سے حوثیوں کے کیمپ بھرے پڑے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی شدت پسندوں نے قومی اور عوامی املاک کی لوٹ مار کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے آنے والی اقوام متحدہ کے امدادی سامان اور ریلیف کو بھی نہ چھوڑا۔ ایک رپورٹ کے مطابق حوثی شدت پسندوں نے اقوام متحدہ کی طرف سےآنے والی امداد کی لوٹ مار کرکے اس سے اپنے کیمپوں میں راشن کے انبار لگا رکھے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی شدت پسندوں کا یہ مجرمانہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ملک کےمغربی شہر الحدیدہ میں حیس ڈاریکٹوریٹ میں یمن کی فوج نے باغیوں کے متعدد مراکز پر قبضہ کیا۔ یمنی فوج کے مطابق حیس میں باغیوں کے کیمپوں میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی طرف سے دی گئی امداد کے انبار لگے ہوئے تھے۔

یمن کے مزاحمتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حیس میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران حوثیوں کے مقرب عبداللہ محمود طالب الاھدل کے گھر میں خوراک کے ہزاروں بنڈل رکھے گئے تھے۔ ان پر اقوام متحدہ کے مختلف امدادای اداروں کے تعارفی اسٹیکر چسپاں تھے۔ یمنی باغیوں نے جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے آنے والی امداد کو لوٹ کر غریب اور نادار شہریوں کے منہ سے لقمہ چھیننے کی کوشش کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے قبضے سے چھڑائے گئے کیمپوں سے امدادی سامان کے 2000 پیکٹ برآمد کیے گئے۔ ان میں زیادہ تر غذائی سامان تھا۔ یہ تمام سامان حوثی لیڈر محمد حلیصی کی نگرانی میں لوٹا گیا اور اسے حیس شہر میں پیپلز کانگریس کے ایک مقامی دفتر میں چھپایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں پر پہلے بھی بیرون ملک سے آنے والی امداد کی لوٹ مار کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ یمنی باغی بیرون ملک سے آنے والی امداد کو لوٹ کر بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے اور ان کے عوض رقم بٹورتے پائے گئے ہیں۔