.

فلسطینی کثیر الملکی امن مصالحت چاہتے ہیں: محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس امید کا اظہار کہا ہے کہ اسرائیل - فلسطین تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ اس امر کا اظہار انھوں نے مقبوضہ غرب اردن کے علاقے رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی حکومت فلسطین عوام کے ساتھ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس [اے پی] کے مطابق ہفتے کے دن بھارتی وزیر اعظم نے اپنے دورہ رام اللہ کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نئی دہلی حکومت فلسطینی عوام کے ساتھ ہے۔ تین گھنٹے دورانیے کے اس دورے کے دوران محمود عباس اور نریندر مودی نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس ملاقات کے بعد بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’امید کی جاتی ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین امن جلد ہی قائم ہو جائے گا۔‘

مسٹر مودی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر محمود عباس کو یقین دلایا ہے کہ بھارت فلسطینی عوام کے مفادات کا احترام کرتا ہے۔ مودی ہفتے کے دن اردن کے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر رام اللہ پہنچے تو محمود عباس نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

نریندر مودی نے ایسے پہلے بھارتی وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، جس نے فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ اس سے قبل کسی بھی بھارتی وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کے اس علاقے کا دورہ نہیں کیا تھا۔ سیاسی ناقدین نے بھارتی وزیر اعظم کے اس دورے کو اہم قرار دیا ہے۔

اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم مودی نے کہا کہ فلسطینی عوام کی حمایت بھارتی خارجہ پالیسی کا ہمیشہ سے ہی ایک اہم جزو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اسی لیے میں یہاں رام اللہ آیا ہوں۔‘‘

اس دوران محمود عباس نے مودی پر زور دیا کہ وہ اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے۔ عباس کے بہ قول بھارت دنیا کا ایک اہم ملک ہے اور وہ اس خطے میں قیام امن کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی قیادت نے کبھی بھی امن مذاکرات کی مخالفت نہیں کی ہے، ’’ہم اس امن عمل کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے۔ متعدد ممالک کی طرف سے اس مذاکراتی عمل کی ثالثی زیادہ اہم ثابت ہو گی۔‘‘

یہ امر بھی اہم ہے کہ امریکا کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد محمود عباس کہہ چکے ہیں کہ اب اس امن عمل میں امریکا اپنا کردار کھو بیٹھا ہے۔

اس دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم مودی نے فلسطین کے ساتھ چالیس ملین ڈالر مالیت کے متعدد سمجھوتوں کو حتمی شکل بھی ہے۔ اس منصوبہ سے فلسطینی عوام کو مختلف شعبوں میں فنی مدد فراہم کی جائے گی۔ اس تین گھنٹے کے مختصر دورے کے دوران مودی نے سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی آخری آرام گاہ پر پھول بھی چڑھائے۔