.

انٹرپول فلپائنی ملازمہ کے مبینہ قاتل لبنانی،شامی جوڑے کی تلاش میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹر پول کویت میں پُراسرار طور پر ہلاک ہونے والی فلپائنی ملازمہ جوآنا ڈینیلا ڈیما فیلس کے آجروں کی تلاش میں ہے۔ مقتولہ کی لاش کویت کے علاقے حولی میں واقع ایک بے آباد اپارٹمنٹ کے فریزر سے حال ہی میں ملی تھی۔

ان میاں بیوی آجروں کی شناخت نادر اعصام عساف اور منی حسون کے نام سے ہوئی ہے۔ میاں لبنانی شہری ہے اور اس کی بیوی شام کی رہنے والی ہے۔ڈیمافیلس 2014ء میں کویت میں اس کے جوڑے کے ہاں گھریلو کام کاج کے لیے آئی تھی۔اس کی لاش پر تشدد کے نشان بھی پائے گئے ہیں۔

عساف اپنی بیوی اور دونوں بچوں سمیت نومبر 2016ء میں کویت سے را ہ فرار اختیار کر گیا تھا اور ان کے اپارٹمنٹ کے مالک نے حال ہی میں عدالت سے اجازت نامہ لے کر اس کو کھولا تھا اور اس کے فریزر سے فلپائنی ملازمہ کی لاش برآمد ہوئی تھی۔یہ ممکنہ طور پر نومبر 2016ء سے ہی اس میں پڑی ہوئی تھی۔

کویتی حکام کو توقع ہے کہ عساف اور اس کی بیوی کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا کیونکہ ان کے خیال میں وہ اس وقت لبنان میں مقیم ہیں۔ تاہم کویتی اخبار الرائے کی رپورٹ کے مطابق وہ اس وقت پڑوسی ملک شام میں ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ عساف اور اس کے خاندان نے کویت سے راہ فرار اختیار کرنے سے دو روز قبل ڈیما فیلس کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی۔اس کے رشتے داروں کے بہ قول اس وقت وہ اپنی بیوی کے زیر اثر ہے اور وہ اس کے سامنے سگریٹ نوشی تک نہیں کرسکتاہے۔

عساف کی پرورش بیروت میں اس کی پھوپھی نے کی تھی ۔اس خاتون نے الرائے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ ناممکن ہے میرا بھتیجا کسی کو قتل نہیں کرسکتا‘‘۔انھوں نے بتایا کہ اس کا باپ اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اس کے بعد انھوں نے ہی اس کو پالا پوسا اور جوان کیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’’ہماری آخری مرتبہ عساف سے دو سال پہلے ملاقات ہوئی تھی۔تب وہ اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے آیا تھا۔وہ پھر کویت چلا گیا تھا اور ہمیں بعد میں معلوم ہوا تھا کہ وہ وہاں سے شام چلا گیا ہے‘‘۔

عساف کے ایک کزن کا کہنا تھا کہ ’’ممکن ہے،اس جرم کے پیچھے نادر عساف کی بیوی کا ہاتھ کارفرما ہو ۔ وہ ایک چالاک عورت ہے اور ہر وقت اس کو ڈراتی دھمکاتی رہتی تھی۔اس نے ایک مرتبہ کویت میں عساف کی والدہ کو بھی گھر سے نکال دیا تھا‘‘۔ان کے بہ قول اس کی والدہ ایک مرتبہ اس سے ملنے کے لیے شام گئی تھیں اور واپسی پر انھوں نے بتایا تھا کہ وہ ذہنی طور پر تندرست نہیں ہے۔