.

ایران شام میں تدمر کے نزدیک فوجی اڈے پر مصروف عمل ہے: اسرائيل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ڈیفنس فورس IDF کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کی قُدس فورس طویل عرصے سے شام کے شہر تدمر کے نزدیک "T-4" فوجی اڈّے سے مصروفِ عمل ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بشار کی فورسز کی مکمل سپورٹ اور موافقت حاصل ہے۔

آئی ڈی ایف کے ترجمان نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر مصنوعی سیارے سے حاصل کی گئی تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں مذکورہ فوجی اڈہ اور ایران کا وہ ڈرون طیارہ نظر آ رہا ہے جس کو اسرائیل نے مار گرایا تھا۔ اس کے علاوہ ایک وڈیو بھی پوسٹ کی گئی ہے جس میں یہ کارروائی دکھائی گئی ہے۔

ہفتے کو صبح سویرے اُس وقت خطرناک جارحیت دیکھنے میں آئی تھی جب اسرائیل نے یہ اعلان کیا کہ اس نے شام میں تدمر کے اڈے سے اڑان بھرنے والے ایرانی ڈرون طیارے کو مار گرایا ہے۔ اسرائیل کے دعوے کے مطابق اس کے لڑاکا طیاروں نے فضائی حملوں میں شام کے اندر تک 12 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران شامی فورسز کی فائرنگ سے اسرائیل کے علاقے جلیل میں اس کی فضائیہ کا ایک "F-16" طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے شام میں وسیع پیمانے پر فضائی حملوں میں شامی فضائی دفاع کے 3 لانچنگ پیڈز اور ایرانی ملیشیاؤں کے 4 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

شمالی محاذ پر اسرائیلی فوج کے کمانڈر نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات کسی لمحے بھی حقیقی جنگ میں بدل سکتے ہیں۔ عسکری عہدے دار کا کہنا تھا کہ تل ابیب کسی طور ایران کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ شام میں فرنٹ لائن بیس قائم کرے کیوں کہ ایران کی مداخلت اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔

اسرائیل کے چینل 10 کے مطابق تل ابیب نے گزشہ چند روز کے دوران لبنان اور شام میں ایران کی سرگرمیوں کے حوالے سے تہران کو سخت لہجے میں پیغامات بھیجے۔ یہ پیغامات کئی یورپی ممالک کے ذریعے پہنچائے گئے۔ ان ممالک میں جرمنی، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی کو ملنے والے مذکورہ پیغامات میں ایران کو سخت انداز میں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ لبنان میں میزائل بنانے کی فیکٹریاں اور شام میں اپنے زیر انتظام فوجی اڈے قائم نہ کرے۔