.

ایران میں سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے صدر روحانی کا ریفرینڈم کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی نظام کے مختلف دھڑوں کے بیچ تنازع کے نتیجے میں جنم لینے والے سیاسی بحران سے باہر آنے کے لیے ریفرینڈم کرایا جائے۔ ایرانی صدر کا یہ موقف ایران میں آخری شاہ کے سقوط اور انقلاب کی کامرانی کے 39 سال مکمل ہونے کے موقع پر ان کے خطاب میں سامنے آیا۔

روحانی نے کہا کہ سیاسی دھڑوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے ریفرینڈم اور پولنگ بکس کا سہارا لیں اور عوام جو فیصلہ کریں اس کے سامنے سر خم کریں۔

روحانی جو خود اعتدال پسند گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں اصلاح پسندوں کی سپورٹ حاصل ہے انہوں نے کہا کہ "پیچیدہ صورت حال سے باہر آںے کے لیے راستہ آئین کے آرٹیکل 59 کی صورت میں موجود ہے جو اختلاف ہونے پر عوام کے ووٹ کی جانب لوٹنے کا تقاضہ کرتا ہے"۔

پارلیمنٹ میں دو تہائی ارکان کی موافقت کے بعد آئین کا آرٹیکل 59 قانون ساز حکام کو اختیار دیتا ہے کہ وہ اقتصادی ، سیاسی ، سماجی اور ثقافتی شعبوں میں حساس اور باریکی کے حامل امور کے حوالے سے ایک عوامی ریفرینڈم کا انعقاد کریں۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ " ہم لازم ہے کہ انتخابات کو آسان بنائیں اور شہریوں کے نجی معاملات میں مداخلت نہ کریں"۔

ایران میں 2017 کے اواخر اور 2018 کے اوائل میں تقریبا 80 شہروں میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے جن کے اثرات اب بھی وقتا فوقتا سامنے آ رہے ہی۔

روحانی نے ایرانی انقلاب کو ٹرین سے مشابہت دی جو 39 برسوں سے چل رہی ہے۔ ایرانی صدر نے اس عرصے میں نظام سے منحرف ہو جانے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ "انقلاب کی ٹرین" پر سوار ہو جائیں۔

یاد رہے کہ ایرانی نظام کے ہزاروں ہمنوا افراد منحرف ہوئے۔ ان میں بعض کو موت کا سامنا کرنا پڑا اور بعض کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے کے لیے ڈال دیا گیا۔ بہت سے منحرف عناصر ملک سے باہر فرار ہو گئے اور بعض نے خاموشی اور گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

روحانی نے ملکی حکام میں شامل تمام بنیاد پرست ، اصلاح پسند اور اعتدال پسند حلقوں پر زور دیا کہ وہ ایرانی آئین کی پاسداری کریں۔

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں اعتراف کیا کہ "ہم نے فیصلے کرنے میں عوام کے ساتھ شفافیت کا معاملہ نہیں کیا"۔

درحقیقت حسن روحانی نے جس مشکل کی جانب اشارہ کیا ہے وہ خود آئین میں موجود تناقض سے وابستہ ہے۔ ایک طرف آئین عوامی اختیار، انتخابات ، ریفرینڈم اور شہریوں کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے اور دوسری طرف وہ ولی فقیہ کو بھی مطلق صورت میں اختیارات سونپ دیتا ہے جو کسی بھی وقت پارلیمنٹ کو تحلیل کر سکتا ہے۔ وہ ہی عدلیہ کا سربراہ مقرر کرتا ہے اور وہ ہی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہوتا ہے۔