.

عراقی انٹیلیجنس کے عہدے دار کا البغدادی کے بارے میں "انکشاف"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزارت داخلہ کے ایک اعلی عہدے دار نے اعلان کیا ہے کہ داعش تنظیم کا سرغنہ ابوبکر بغدادی ابھی تک زندہ ہے اور اس وقت شام کے شمال مشرق میں واقع صحرائی علاقے میں تنظیم کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔

وزارت داخلہ میں جنرل انٹیلیجنس اور انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر ابو علی البصری نے عراقی روزنامے "الصباح" کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ بغدادی کو پنڈلی اور جسم کے دیگر حصوں میں ہڈی ٹوٹ جانے اور گہرے زخموں کا سامنا ہے جس کے سبب وہ خود س چلنے کے قابل نہیں رہا اور شام کے علاقے الجزیرہ میں داعش تنظیم کے ایک ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔

البصری کا مزید کہنا ہے کہ "تنظیم کے اندر سرائیت کر جانے والے ہمارے ذرائع کی مصدقہ معلومات کے مطابق بغدادی کی طبی اور نفسیاتی حالت خراب ہے"۔

البصری نے واضح کیا کہ بغدادی اپنی زندگی کے آخری ایام گِن رہا ہے اور وہ ذیابیطس کے مرض میں بھی مبتلا ہو چکا ہے۔

شام کا علاقہ الجزیرہ عراقی سرحد کے متوازی ہے جہاں داعش تنظیم کے بچے کھچے عناصر موجود ہیں۔

عراقی حکام نے گزشتہ ہفتے "بین الاقوامی سطح پر مطلوب دہشت گرد رہ نماؤں" کی فہرست جاری کی تھی۔ ان میں ابراہیم عواد ابراہیم البدری السامرائی عُرف "ابوبکر بغدادی" سرِفہرست ہے۔

روسی فوج نے جون 2017 میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا بغدادی گزشتہ برس مئی میں شام میں روسی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا۔

بغدادی جس کو ہلاک کرنے والے یا اس کی جگہ کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے واشنگٹن نے 2.5 کروڑ ڈالر رکھے ہیں، وہ اس وقت نظروں سے اوجھل ہے۔ کئی مرتبہ یہ افواہیں گردش میں آ چکی ہیں کہ وہ عراق اور شام کی سرحد پر داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں منتقل ہو چکا ہے۔

تاہم یکم ستمبر 2017 کو ایک امریکی سینئر فوجی اہل کار نے بتایا کہ داعش تنظیم کا سرغنہ ابھی زندہ ہے اور غالبا وہ شام کے مشرق میں دریائے فرات کے نزدیک کسی مقام پر روپوش ہے۔