.

حوثی باغیوں کا اہم عسکری عہدیدارمںحرف ہوکرسرکاری فوج میں شامل

حوثی ’دہشت گرد مافیا‘بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کام کرتا ہے:بریگیڈیئر العمری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نواز حوثی شدت پسندوں کا ایک اہم عسکری عہدیدار مںحرف ہونے کے بعد عدن پہنچ کر یمنی فوج میں شامل ہوگیا ہے۔ مںحرف حوثی لیڈر نے ملک کو حوثیوں کی بغاوت سے پاک کرنے کے لیے سرکاری فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کےعزم کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی کی فضائیہ کا ترجمان اور باغیوں کی قائم کردہ ملٹری فورم کے آرمڈ فورسز اور اینڈ سیکیورٹی کے ڈپٹی چیف بریگیڈیئر جمیل العمری منحرف ہونے کے بعد عبوری دارالحکومت عدن پہنچ گئے ہیں۔ مںحرف حوثی عہدیدار نے عدن میں سرکاری فوج کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے آئینی حکومت کے پرچم تلے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

بریگیڈیئر جمیل العمری نے حوثی قیادت اور اس کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے قتل اور پیپلزکانگریس کےساتھ اتحاد ختم کرنے کی ذمہ داری حوثیوں پرعاید ہوتی ہے۔

بریگیڈیئر العمری نے حوثیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے’دہشت گرد مافیا‘ قرار دیا اور کہا کہ حوثی ملک کو تباہ کرنے، اہم سیاسی اور عسکری قائدین کو قاتلانہ حملوں میں شہید کرنے اور ملک وقوم کے وسائل پرناجائز تسلط جمانے کے مرتکب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر پوری قوم کو تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اپنے مذموم جنگی عزائم کے لیے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما کرنہ صرف ان کا مستقبل داؤ پر لگا دیا بلکہ ان کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔

بریگیڈیئر جمیل العمری نے کہا کہ میں نے حوثیوں کے مظالم دیکھے تو ان میں شامل رہنے کو اپنا جرم تصور کیا جس کے بعد میں صنعاء سے نکل کرعدن پہنچا تاکہ آئینی حکومت کے ساتھ مل کر ملک کو حوثیوں کے جرائم سے پاک کرنے کی مہم کا حصہ بن سکوں۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا حوثی عسکری عہدیدار کب منحرف ہوکر عدن پہنچا۔