.

سعودی عرب میں 99 برس قبل گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی تاریخ پر توجہ کا اہتمام کرنے والے بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ مملکت میں پہلی گاڑی 1340 ہجری میں داخل ہوئی۔ یہ گاڑی شاہ عبدالعزیز آل سعود مملکت سعودی عرب کے قیام سے 11 سال قبل لائے تھے۔ اُس وقت وہ سلطانِ نجد کے خطاب کے حامل تھے۔

سال 1345 ہجری کے آغاز کے ساتھ چند مقامات پر گاڑیاں دیکھنے میں آنے لگیں اور یہ اونٹ کے بدلے آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ بن گئیں جو اُس زمانے میں نقل و حمل کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا ذریعہ تھا۔

تاریخ پر نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ پہلی گاڑی کا استعمال حائل میں ، مکہ مکرمہ میں اور پھر ریاض میں ہوا۔ مملکت کے بانی نے پہلی مرتبہ گاڑی کا استعمال 1341 ہجری میں کیا۔

مملکت میں داخل ہونے والے مشہور ٹریڈ مارکوں میں Diamond T ، International اور Ford شامل ہیں۔

مملکت میں نقل و حمل کے اس نئے ذریعے کے نمودار ہونے کے بعد بعض لوگوں نے ملکیت ثابت کرنے کے لیے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو محفوظ رکھا۔ ان میں ایک پلیٹ پر دو تلواروں اور کھجور کے درخت کی علامت موجود ہے۔ اس کے علاوہ آل سعود کے ساتھ مخصوص اونٹ کی علامت کی حامل نمبر پلیٹ بھی محفوظ ہے۔

سعودی عرب میں قبائل اور خاندان اونٹوں کو ایسی علامتوں کا نام دے دیتے تھے جو ہر خاندان یا قبیلے کو معلوم ہوتا تھا۔ ایک شخص کے پاس محفوظ گاڑی کی نمبر پلیٹ پر آل سعود کے اونٹ کی علامت موجود ہے۔ یہ علامتolo کے نام سے موسوم ہے۔

ایک نمبر پلیٹ پر 36 کا عدد لکھا ہوا ہے جس کے بارے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ 36 ویں گاڑی تھی جو اُس وقت مملکت میں داخل ہوئی۔

مملکت میں گاڑیوں کی آمد کے ابتدائی دور میں کئی ظریفانہ واقعات بھی منسوب ہیں۔ مملکت کے صحراء میں جب پہلی مربتہ گاڑی کو چلتے ہوئے دیکھا گیا تو مقامی لوگ اسے کوئی جنّاتی شے سمجھ کر اُس سے دور بھاگ جاتے تھے۔

1350 ہجری کی دہائی میں گاڑی نے اونٹ کے متبادل کے طور پر جگہ لے لی اور وہ مملکت کے تمام حصّوں میں نظر آنے لگی۔ 1370 ہجری کی دہائی میں لوگوں کے پاس گاڑیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا اور بعض حضرات "لاری" نامی گاڑی میں لوگوں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچانے لگے۔

پکّی سڑکیں نہ ہونے کے باعث اُس وقت ریتیلے علاقوں میں گاڑی چلانے والوں کو سب سے زیادہ دشواری کا سامنا ہوتا تھا۔ اسی طرح پٹرول اسٹیشنز کی شدید کمی تھی اور ڈرائیور حضرات دوران سفر اپنے ساتھ ایندھن بھی رکھتے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ گاڑی نے عوامی شاعری اور قصیدوں کے مطلع میں اونٹ کی جگہ لے لی۔

آخرکار گاڑی جزیرہ عرب میں نقل و حمل کا اہم ترین ذریعہ بن گئی اور ہزاروں قصیدے اس کے ذکر سے خالی نہیں۔ آمد و رفت کے مختلف وسائل مثلا ٹرین ، ہوائی جہاز اور پانی کے جہاز کے ظاہر ہونے کے باوجود اب بھی عوامی شاعری کے بعض قصیدوں میں گاڑی کا ذکر آتا ہے۔